Main Icon

باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 405

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ لَقِيْطِ بْنِ صَبِرَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ أَخْبِرْنِيْ عَنِ الْوُضُوْءِ. قَالَ: أَسْبِغِ الْوُضُوْءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ وَبَالِغْ فِي الْاِسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُوْنَ صَائِمًا . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوٰى ابْنُ مَاجَهْ والدَّارِمِيُّ إِلَى قَوْلِهٖ: بَيْنَ الأَصَابِعِ

وعن لقيط بن صبرة قال: قلت: يا رسول الله أخبرني عن الوضوء. قال: أسبغ الوضوء وخلل بين الأصابع وبالغ في الاستنشاق إلا أن تكون صائما . رواه أبو داود والترمذي والنسائي وروى ابن ماجه والدارمي إلى قوله: بين الأصابع

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرتلقیطابن صبرہ سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیایارسول اللہ مجھے وضو کے متعلق خبر دیجئے فرمایا وضوپوراکرو انگلیوں کے درمیان خلال کرو اورناک کے پانی میں مبالغہ کرو مگر جب تم روزہ دار ہو۲؎(ابوداؤد)ترمذی اور نسائی نے روایت کی اور ابن ماجہ و دارمی نےبین الاصابعتک روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کاناملقیطابن عامر ابن صبرہ ہے،کنیت ابو رزین عقیلی ہیں،مشہور صحابی ہیں،طائف والوں میں آپ کا شمار ہے۔
۲
؎یعنی اعضاء پورے دھوؤ اور تین تین بار دھوؤ ہاتھوں،اورپاؤں کی انگلیوں میں خلال کرو،اگر پاؤں کی انگلیاں چپٹی ہوئی ہوں کہ بغیر خلال ان میں پانی نہ پہنچے تو خلال ضروری ہے،ورنہ سنت۔حق یہ ہے کہ ہاتھوں کی انگلیوں میں بھی خلال کرنا چاہیئے،اس خلال میں چھنگلی شرط نہیں جیسے بھی ہوجائے کافی ہے۔ناک میں پانی بانسے تک پہنچنانا ضروری ہے حتی کہ غسل میں فرض ہے اور اتنا چڑھانا کہ حلق میں اتر جائے بہتر ہے مگر روزے کی حالت میں صرف بانسے تک پہنچائے،اگرحلق میں چلا گیا تو روزہ فاسدہوجائے گا۔(ازاشعۃ اللمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 405