Main Icon

باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 408

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ أَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَأَدْخَلَهٗ تَحْتَ حَنَكِهٖ فَخَلَّلَ بِهٖ لِحْيَتَهٗ وَقَالَ: هٰكَذَا أَمَرَنِيْ رَبِّيْ .رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا توضأ أخذ كفا من ماء فأدخله تحت حنكه فخلل به لحيته وقال: هكذا أمرني ربي .رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو ایک چلو پانی لےکر ٹھوڑی کے نیچے پہنچاتے جس سے اپنی داڑھی کا خلا ل کرتے اور فرماتے کہ میرے رب نے مجھے یوں ہی حکم دیا ہے ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ داڑھی شریف کا یہ خلال چہرہ دھونے کے ساتھ تھا نہ کہ وضو کے بعد۔اور اَمْرِ رب سے مراد وحی خفی یعنی الہام ہے یا بواسطۂ جبریل۔معلوم ہوا کہ حضور پر وحی صرف قرآن ہی کی نہیں ہوئی اس کے علاوہ اوربھی ہیں۔خیال رہے کہ یہ امر وجوب کا نہیں بلکہ استحبابی ہے کیونکہ داڑھی کا خلال کسی کے ہاں فرض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 408