Main Icon

باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 393

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَقِيْلَ لِعَبْدِ اللّٰهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ: كَيْفَ كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ فَدَعَا بِوَضُوْءٍ فَأَفْرَغَ عَلٰى يَدَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهٗ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفِقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهَ بِيَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهٖ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتّٰى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِيْ بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالنَّسَائِيُّ، وَلأَبِيْ دَاوُدَ نَحْوُهٗ ذَكَرَهُ صَاحِبُ الْجَامِعِ

وقيل لعبد الله بن زيد بن عاصم: كيف كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم يتوضأ؟ فدعا بوضوء فأفرغ على يديه فغسل يديه مرتين مرتين، ثم مضمض واستنثر ثلاثا، ثم غسل وجهه ثلاثا، ثم غسل يديه مرتين إلى المرفقين، ثم مسح رأسه بيديه، فأقبل بهما وأدبر، بدأ بمقدم رأسه، ثم ذهب بهما إلى قفاه، ثم ردهما حتى رجع إلى المكان الذي بدأ منه، ثم غسل رجليه. رواه مالك والنسائي، ولأبي داود نحوه ذكره صاحب الجامع

حدیث ترجمہ

عبداللہ ابن زید ابن عاصم سے کہا گیا ۱؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے تو آپ نے پانی منگایاپھراپنے ہاتھوں پرڈالا دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے ۲؎پھر کلی کی اور ناک جھاڑی(تین بار)پھر تین بار منہ دھویاپھرہاتھ دوبارکہنیوں تک دھوئے پھر دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا کہ انہیں آگے پیچھے لے گئے سر کے اگلے حصے سے شروع کیا پھر انہیں گدی تک لے گئے پھر لوٹا لائے حتی کہ اسی جگہ لوٹ آئے جہاں سے شروع کیا تھا۳؎پھر اپنے پاؤں دھوئے ۴؎(مالک و نسائی)اور ابو داؤد کی روایت بھی اسی طرح ہے جیسے جامع والے نے ذکر کیا۵

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری مازنی ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا کرتے تھے۔عبداللہ ابن زید ابن عبداللہ دوسرے ہیں وہ اذان والے کہلاتے ہیں۔مشہور یہ ہے کہ آپ نے حضرت وحشی کے ساتھ مل کر مسلیمہ کذاب کوقتل کیا،آپ جنگ احد میں حضور کے ساتھ رہے،جنگ حرہ میں ۷۳ھشہید ہوئے۔
۲
؎دوبار ہاتھ دھونا بیان جواز کے لئے ہے تاکہ معلوم ہو کہ اس طرح بھی وضو ہوجاتا ہے ورنہ تین بار ہاتھ دھونا سنت ہے کیونکہ دوسری روایت میں ہے کہ حضور نے تین باراعضاءدھوکرفرمایا کہ جو اس پر زیادتی کمی کرے اس نے برا کیا،حضرت عبداللہ نے صرف اعمال وضو کا ذکر فرمایااسی لیے بسم اللہ یا نیت کا ذکر نہ کیا نہ اعضاء کی دعاؤں کا،مسواک وضو سے خاص نہیں اورموقعوں پر بھی ہوتی ہے اس لئے اس کا ذکر بھی نہ فرمایا۔(مرقاۃ)
۳
؎ظاہر یہی ہے کہ سر شریف کا مسح ایک بار ہی کیا تین بارمسح سے سر دھلے گا اور سر کا دھونا سنت نہیں۔خیال رہے کہ چہارم سر کا مسح فرض ہے اور پورے سر کا مسح سنت ہے،یہاں مسح سنت کا ذکر ہے۔ہر ہاتھ کی تین انگلیاں کھوپڑی کے اگلے حصہ پر رکھے پھر آخر سر تک لے جائے واپسی میں یہ انگلیاں علیحدہ کرے صرف ہتھیلیاں سر کے دونوں طرف لگائے اور آگے کو کھینچ لائے،یہ ہی یہاں مراد ہے۔کلمہ کی انگلی سے اندرون کان کا مسح کرے اور انگوٹھے سے بیرون کا،مسح سر کا طریقہ مستحب یہ ہی ہے۔
۴
؎مع ٹخنوں کے تین بار،جیسا کہ دوسری روایت میں ہے،لہذایہ حدث بعض لحاظ سے مجمل ہے۔
۵
؎یعنی ابن اثیر نے جو جامع الاصول کے مؤلف ہیں جس میں صحاح ستہ کی احادیث جمع فرمائی ہیں۔اس عبارت میں مصنف پر اعتراض ہے کہ انہوں نے پہلی فصل میں وہ روایت نقل فرمائی جومسلم وبخاری کی نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 393