Main Icon

باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 424

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَقَالَ: αهٰذَا وُضُوْئِيْ وَوُضُوءُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِيْ وَوُضُوءُ إِبْرَاهِيْمَ.رَوَاهُمَا رَزِيْنٌ وَالنَّوَوِيُّ ضَعَّفَ الثَّانِيْ فِيْ شَرْحِ مُسْلِمٍ

وعن عثمان رضي الله عنه قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ ثلاثا ثلاثا وقال: αهذا وضوئي ووضوء الأنبياء قبلي ووضوء إبراهيم.رواهما رزين والنووي ضعف الثاني في شرح مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار وضو کیااورفرمایا کہ یہ میرا اورمجھ سے اگلے نبیوں کا وضو ہے اورحضرت ابراہیم کا وضو ہے ۱؎ان دونوں حدیثوں کو رزین نے روایت کیانووی نے شرح مسلم میں دوسری کو ضعیف بتایا۔

شرح حدیث

۱∞؎اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے: ایک یہ کہ وضو اسلام کے ساتھ خاص نہیں،پہلی امتوں میں بھی تھا،ہاں چہروں کی چمک اس امت کی خصوصیات سے ہے۔دوسرےیہ کہ ابراہیم علیہ السلام بھی وضو کیا کرتے تھے۔چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ حضرت ابراہیم وسارہ نے وضو کیا اور نماز پڑھی اور جریج اسرائیلی نے وضوکیااورنماز پڑھی۔غرض کہ وضوء بڑی پرانی سنت ہے۔تیسرے یہ کہ تین تین بار اعضائے وضو دھونا بہت افضل ہے کیونکہ سنت انبیاءہے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ایک یادوباراعضاءدھونابیان جوازکے لیے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 424