Main Icon

باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 416

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ ذَكَرَ وُضُوءَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَكَانَ يَمْسَحُ الْمَاقَيْنِ، وَقَالَ: الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَذَكَرَا: قَالَ حَمَّادٌ: لَا أَدْرِيْ: الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ مِنْ قَوْلِ أَبِيْ أُمَامَةَ أَمْ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

وعن أبي أمامة ذكر وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: وكان يمسح الماقين، وقال: الأذنان من الرأس. رواه ابن ماجه وأبو داود والترمذي، وذكرا: قال حماد: لا أدري: الأذنان من الرأس من قول أبي أمامة أم من قول رسول الله صلى الله عليه وسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے ۱؎کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کیا فرماتے ہیں کہ آپ آنکھ کے کونوں کو بھی ملتے تھے اور فرمایا کہ دونوں کان سر سے ہیں ۲؎اسے ابن ماجہ،ابوداؤد اورترمذی نے روایت کیا دونوں نے کہا حماد فرماتے ہیں مجھے خبر نہیں کہ یہ قول کہ کان سر سے ہیں آیا ابوامامہ کاقول ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سےہے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام سعد ابن حنیف ہے،انصاری،خزرجی،اوسی ہیں،اپنی کنیت میں مشہور ہوئے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے دو سال پہلے پیدا ہوئے،اسی لئے آپ کا شمار تابعین میں ہے،۸۲سال عمر پائی ۱۰۰ھمیں وصال ہوا۔ابو امامہ باہلی اورہیں وہ صحابی ہیں۔
۲
؎یعنی ان کے ظاہروباطن کا مسح سر ہی کے پانی سے ہوگا چہرے کے ساتھ دھوئے نہیں جائیں گے۔خیال رہے کہ آنکھ کے کویوں پر انگلی پھیرلینا تاکہ پانی ان کے اندر پھیل جائے سنت ہے۔یہاں مسح سے یہی مراد ہے کیونکہ کوئے کے مسح کا کوئی قائل نہیں۔
۳
؎ظاہر یہی ہے کہ یہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان شریف ہے کیونکہ ابوامامہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے سلسلے میں یہ فرمارہے ہیں،نیز کانوں کا سریا چہرے سے ہونا سن کر ہی کہا جاسکتا ہے،نہ کہ اپنی رائے سے کہ وضوء کے احکام عقل سے وراءہیں لہذا یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 416