Main Icon

باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 411

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: نَحْنُ جُلُوْسٌ نَنْظُرُ إِلٰى عَلِيٍّ حِيْنَ تَوَضَّأَ فَأَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنٰى فَمَلَأَ فَمَهٗ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرٰى فَعَلَ هٰذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يَنْظُرَ إِلٰى طَهُوْرِ رَسُولِ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهٰذَا طَهُوْرُهٗ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

وعن عبد خير قال: نحن جلوس ننظر إلى علي حين توضأ فأدخل يده اليمنى فملأ فمه فمضمض واستنشق ونثر بيده اليسرى فعل هذا ثلاث مرات ثم قال من سره أن ينظر إلى طهور رسول الله صلى الله عليه وسلم فهذا طهوره. رواه الدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدخیرسے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم بیٹھے ہوئے حضرت علی کو دیکھ رہے تھے جب انہوں نے وضو کیا اوراپناداہنا ہاتھ ڈالا تو منہ بھرکر کلی کی اور ناک میں پانی لیا اوربائیں ہاتھ سے ناک جھاڑی یہ تین بار کیا پھر فرمایا کہ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھنا پسندہوتوحضور کا وضو یہ تھا۲؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عبد خیر ابن یزید،کنیت ابو عمارہ ہے،کوفہ کے رہنے والے ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا مگر ملاقات نہ کرسکے،اس لئے آپ جلیل القدر تابعی ہیں،حضرت علی کے ساتھیوں میں سے ہیں،ایک سو بیس سال کی عمر پائی۔
۲
؎یہ حدیث مختصر ہے جس میں صرف کلی اور ناک کے پانی کا ذکر ہے ورنہ حضرت علی مرتضی نے پورا وضو کرکے دکھایاتھا۔ہاتھ ڈالنے سے مراد بڑے برتن میں ہاتھ ڈال کر کلی وغیرہ کے لیے چلو بھرنا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 411