Main Icon

باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 418

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَهُ يَقُولُ: اللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الأَبْيَضَ عَنْ يَمِيْنِ الْجَنَّةِ، قَالَ: أَيْ بُنَيَّ سَلِ اللّٰهَ الْجَنَّةَ، وَتَعَوَّذْ بِهٖ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَقُول: إِنَّه سَيَكُوْنُ فِيْ هٰذِهِ الْأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُوْنَ فِي الطَّهُوْرِ وَالدُّعَاءِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

وعن عبد الله بن المغفل أنه سمع ابنه يقول: اللهم إني أسألك القصر الأبيض عن يمين الجنة، قال: أي بني سل الله الجنة، وتعوذ به من النار، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول: إنه سيكون في هذه الأمة قوم يعتدون في الطهور والدعاء. رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مغفل سے ۱؎کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو یہ کہتے سنا کہ الٰہی میں تجھ سے جنت کی داہنی طرف سفید محل مانگتا ہوں تو فرمایا کہ اے میرے بچے اللہ سے جنت مانگواور دوزخ سے اس کی پناہ مانگو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اس امت میں وہ قوم ہوگی جو وضو اور دعا میں حد سے تجاوز کیا کرے گی۲؎(احمدوابوداؤد و ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ قبیلہ مزینہ کے ہیں،بیعت الرضوان میں حاضر ہوئے،مدینہ طیبہ قیام رہا،عہدِ فاروقی میں آپ کو بصرے بھیجا گیا تاکہ لوگوں کو علم سکھائیں،وہاں ہی ۶۰ھمیں انتقال ہوا۔
۲
؎دعا میں تجاوز تو یہ ہے کہ ایسی تعیّن کی جائے جس کی ضرورت نہیں جیسے ان کے صاحبزادہ نے کیا۔فردوس مانگنا بہت بہتر ہے کہ اس میں شخصی تعین نہیں نوعی تقرر ہے اس کا حکم دیا گیا ہے۔وضو میں حد سے بڑھنا دو طرح ہوسکتا ہے:تعداد میں زیادتی اور عضو کی حد میں زیادتی جیسے پاؤں گھٹنے تک دھونا اور ہاتھ بغل تک کہ یہ دونوں باتیں ممنوع ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 418