Main Icon

باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 413

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ: بَاطِنَهُمَا بِالسَّبَّاحَتَيْنِ وَظَاهِرَهُمَابِإِبْهَامَيْهِ.
رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم مسح برأسه وأذنيه: باطنهما بالسباحتين وظاهرهمابإبهاميه.
رواه النسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سرو کانوں کا مسح فرماتے تھے اندرونی کانوں کا کلمہ کی انگلیوں سے ۱؎بیرونی کا اپنے انگوٹھوں سے۲؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎کلمہ کی انگلی کو کفار عرب سبابہ کہتے تھے،یعنی گالیاں دینے والی انگلی،چونکہ گالی گلوچ کرتے وقت اس انگلی سے ا شارہ کرتے جاتے تھے اس لیے اس کا یہ نام رکھا تھا۔اسلام نے اس کا نامسباحہیامسبحہرکھا یعنی تسبیح پڑھنے والی انگلی،اور اردو زبان میں اسے کلمے کی انگلی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ انگلی تسبیح اور کلمے میں استعمال ہوتی ہے کہ پہلے اسی پر شمار کی جاتی ہے۔
۲
؎یعنی سر کے مسح کے بعد اسی پانی سے نہ کہ دوسرے پانی سے،لہذا یہ حدیث حنفیوں کی دلیل ہے۔امام شافعی کے ہاں کان کا اندرونی حصہ منہ کے ساتھ دھویا جاتا ہے اور بیرونی حصے کاسر کے ساتھ مسح ہوتا ہے۔یہ حدیث ان کے خلاف ہے،نیز ایک ہی عضو کادھلنا اورمسح خلاف قانون ہے۔غسل و مسح جمع نہیں ہوناچاہیئے۔بعض آئمہ کے نزدیک کان کے مسح کے لیے الگ پانی لیتے ہیں یہ حدیث ان کے بھی خلاف ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 413