Main Icon

باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 425

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَكَانَ أَحَدُنَا يَكْفِيْهِ الْوُضُوءُ مَا لَمْ يُحْدِثْ. رَوَاهُ الدَّارْمِيْ

وعن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضأ لكل صلاة وكان أحدنا يكفيه الوضوء ما لم يحدث. رواه الدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے ۱؎اورہم کو ایک ہی وضواسوقت تک کافی ہوتا جب تک بے وضو نہ ہوتے ۲؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎مرقاۃ نے فرمایا کہ اولًا حضور پر ہر نماز کے لیے وضو کرنا فرض تھا،پھر یہ فرضیت منسوخ ہوئی جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہورہا ہے یہ اس وقت کا ذکر ہے۔اورہوسکتا ہے کہ فرضیت کے منسوخ ہونے کا بعد کا ذکر ہوا اوراکثری حال مراد ہو،یعنی حضور اکثر ہر نماز کے لیے وضو فرمالیتے تھے۔اس آیت کے ظاہر پر عمل فرماتے ہوئے"اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوۡا"الایہ۔اب بھی ہر نماز کے لیے وضو کرلینا خواہ پہلاوضوہومستحب ہے۔خیال رہے کہ یہاں نماز سے نماز فرض مراد ہے اورنمازاشراق فجر کے وضوء سے پڑھنا مستحب ہے۔
۲
؎یعنی ہم لوگ اکثر ایک وضو سے چند نمازیں پڑھ لیتے تھے۔خیال رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک وضو سے چار نمازیں پڑھیں تھیں۔اور بعض صحابہ ہر نماز کے لیے نیا وضو کرتے تھے مگر وہ واقعات اس حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ یہاں اکثری حالت کا ذکر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 425