Main Icon

باب: وضوء کی سنتیں - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 419

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ لِلْوُضُوْءِ شَيْطَانًا يُقَالُ لَهٗ الْوَلَهَانُ فَاتَّقُوْا وَسْوَاسَ الْمَاءِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيْثِ لِأَنَّا لَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهٗ غَيْرَ خَارِجَةَ وَهُوَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَصْحَابِنَا

وعن أبي بن كعب عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إن للوضوء شيطانا يقال له الولهان فاتقوا وسواس الماء. رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي: هذا حديث غريب وليس إسناده بالقوي عند أهل الحديث لأنا لا نعلم أحدا أسنده غير خارجة وهو ليس بالقوي عند أصحابنا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں کہ وضو کا ایک شیطان ہے جسےولہانکہا جاتا ہے ۱؎تو پانی کے وسوسوں سے بچو۲؎(ترمذی و ابن ماجہ نے روایت کی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد محدثین کے نزدیک قوی نہیں کیونکہ ہم نے خارجہ کے سوا کسی کو نہ جانا جو اسے مرفوعًا نقل کرے اور خارجہ ہمارے دوستوں کے نزدیک قوی نہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎ولہان وَلْہٌسے بنا،بمعنی حیرت یا حرص۔چونکہ یہ شیطان وضو کرنے والے کو حیرت میں ڈال دیتا ہے اور پانی کے زیادہ استعمال پر حریص کرتا ہے اس لئے اسے ولہان کہا جاتا ہے۔زیادتی عشق کو بھی ولہہ اور عاشق حیرت زدہ کو بھی ولہان کہتے ہیں۔شیطان کی جماعتیں مختلف ہیں۔جن کے علیحدہ علیحدہ کام ہیں ان میں سے ایک جماعت کا یہ کام اور یہ نام ہے۔
۲
؎دل میں جو شک بلا دلیل پیدا ہواسے وسوسہ کہا جاتا ہے۔بلاوجہ یہ خیال کرنا کہ شاید پانی نجس ہو،شاید کپڑوں پرچھینٹیں پڑ گئیں ہوں،شاید پانی پورے عضو پر نہ بہاہو،یہ سب کچھ وسوسے ہیں۔بعض لوگوں کو دیکھا گیا کہ وہ ہاتھوں کی لکیروں میں پانی پہنچاتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 419