Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4064

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللّٰهِ، فَإِنْ أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَأَدْركْتَهٗ حَيًّا فَاذْبَحْهُ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهٗ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ، وَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلٰى نَفْسِهٖ، فَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبًا غَيْرَهٗ وَقَدْ قَتَلَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهُمَا قَتَلَ. وَإِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللّٰهِ، فَإِنْ غَابَ عَنْكَ يَوْمًا فَلَمْ تَجدْ فِيهِ إِلَّا أثَرَ سَهْمِكَ فَكُلْ إِنْ شِئْتَ، وَإِنْ وَجَدْتَهٗ غَرِيقًا فِي الْمَاءَ فَلَا تَأْكُلْ". مُتَّفَق عَلَيهِ.

عن عدي بن حاتم قال: قال لي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا أرسلت كلبك فاذكر اسم الله، فإن أمسك عليك فأدركته حيا فاذبحه، وإن أدركته قد قتل ولم يأكل منه فكله، وإن أكل فلا تأكل، فإنما أمسك على نفسه، فإن وجدت مع كلبك كلبا غيره وقد قتل فلا تأكل، فإنك لا تدري أيهما قتل. وإذا رميت بسهمك فاذكر اسم الله، فإن غاب عنك يوما فلم تجد فيه إلا أثر سهمك فكل إن شئت، وإن وجدته غريقا في الماء فلا تأكل". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت عدی ابن حاتم سے ۱؎فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم اپنا کتا چھوڑو تو اللہ کا نام لے دو ۲؎پھر اگر کتا تم پر روک رکھے پھر تم اسے زندہ پالو توذبح کرلو ۳؎اور اگر ایسے پاؤ کہ کتے نے قتل کردیا ہو اور اسے کھایا نہ ہو تو بھی کھالو اور اگر کھالیا ہو تو اس نے اپنی ذات کے لیئے روکا ہے ۴؎اگر اپنے کتے کےساتھ دوسرا کتا پاؤ حالانکہ قتل کیا گیا ہو تو نہ کھاؤ ۵؎کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کس نے قتل کیا اور جب تم اپنا تیر مارو تو اللہ کا نام لے لو ۶؎پھر اگر شکار تم سے دن بھرغائب رہے تم اس میں اپنے تیر کے اثر کے سوا نہ پاؤ تو اگر چاہو تو کھالو ۷؎اور اگرتم اسے پانی میں ڈوبا ہوا پاؤ تو نہ کھاؤ ۸؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱؎آپ عدی ابن حاتم ابن عبداللہ ابن سعد طائی ہیں۔شعبان ۷ھ؁ ∞ سات ہجری میں بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے،پھر حضرت علی کے پاس کوفہ میں رہے،حضرت علی کے ساتھ جنگ جمل صفین نہروان میں حاضر رہے،جنگ جمل میں آپ کی ایک آنکھ جاتی رہی، مقام کوفہ میں ۶۷ھ؁ ∞ سرسٹھ میں وفات پائی،ایک سو بیس سال کی عمر پائی،آپ بہت قد آور سخی تھے۔
۲
؎یعنی شکاری کتے کوبسم اﷲاﷲ اکبرکہہ کر چھوڑو کہ شکاری کتا تیر کی طرح مانا گیا ہے جیسے شکار پر تیر پھینکتے وقتبسم اﷲکہنا ضروری ہے ایسے ہی اس وقت لہذا اگر شکاری کتا خود ہی شکار پر حملہ کردے تو بغیر ذبح شکار حلال نہ ہوگا۔
۳
؎یعنی کتے نے جانور کو پکڑ لیا مگر ہلاک نہ کیا تم نے اسے زندہ پالیا تو ذبح کرنا فرض ہے اور اگر ذبح نہ کیا اور اب وہ مرگیا تو حرام ہوگیا۔
۴
؎یہ امر اباحت کے لیے ہے یعنی یہ جانور حلال ہے اسے کھاسکتے ہو اور نہی تحریم کے لیے ہے یعنی اگر کتے نے اس کے گوشت سے کچھ کھالیا تو تمہیں اس کا کھانا حرام ہے کیونکہ اس کھالینے سے معلوم ہوا کہ ابھی کتا معلم نہیں شکار میں جاہل ہے اور جاہل کتے کا شکار حرام ہے اگر مرگیا ہو۔
۵
؎یہ اسی صورت میں ہے کہ دوسرا کتا غیر معلم ہو تو اسے شکار پر نہ چھوڑا گیا ہو یا دیدہ دانستہبسم اﷲنہ پڑھی گئی ہو یا کسی مجوسی یا ہندو وغیرہ نے چھوڑا ہو جس کا ذبیحہ حرام ہے۔اگر دوسرا کتا بھی معلم کسی مسلمان شکاری نےبسم اﷲپڑھ کر چھوڑا ہو پھر ان دونوں نے شکار کیا تو شکار حلا ل ہے۔(دیکھو کتب فقہ اور مرقات)اگر شرائط میں سے کسی شرط کاعلم نہ ہو تب بھی شکار حرام ہے بہرحال اس میں بہت پابندی ہے۔(اشعہ)
۶
؎تیر سے مراد ہر دھاردار یا نوکیلا ہتھیار ہے جو جسم کو دھار سے کاٹ سکے لہذا اگر شکاری جانور پر تلوار یا چاقو پھینک کر مارا اور وہ دھار یا نوک کی طرف سے لگا تو بھی حلال ہے لیکن غلہ یا گولی کا مارا ہوا حرام ہے تاوقتیکہ ذبح نہ کیا جائے۔
۷
؎یعنی اگر تمہارا دل گواہی دے کہ یہ تمہارے تیر سے ہی مرا ہے تو کھاسکتے ہو اگر دل نہ چاہے اس میں شبہ ہو کہ شاید کسی اور وجہ سے مرا ہوگا تو نہ کھاؤ۔(مرقات)
۸
؎کیونکہ اب شبہ ہے کہ شاید یہ ڈوب کر مرا ہو مشکوک چیز سے پرہیز کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4064