Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4088

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْداءِ قَالَ: نَهٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْمُجَثَّمَةِ وهيَ الَّتِي تُصْبَرُ بالنَّبلِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي الدرداء قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أكل المجثمة وهي التي تصبر بالنبل. رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مجثمہ کے کھانے سے منع فرمایا ۱؎مجثمہ وہ جانور ہے جو تیر سے دھرلیا جائے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو جانور اپنے قبضہ میں ہو اسے باندھ کر تیر کا نشانہ بنایا جائے اور بجائے شرعی ذبح کے اسے اس طرح مارا جائے وہ حرام ہے۔قبضہ کا جانور ذبح ہوجانا چاہیے،تیر کا ذبح مجبوری کی حالت میں ہے جب جانور قبضہ میں نہ ہو۔
۲
؎مجثمہبنا ہےجثومسے جس کے معنی ہیں سینہ زمین سے لگادینا،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ(۹۱)" یہاںجاثمینکے یہ ہی معنی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4088