Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4091

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهٖ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "ذكاة الجنين ذكاة أمه". رواه أبو داود والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پیٹ کے بچہ کاذبح اس کی ماں کا ذبح ہے ۱؎(ابوداود،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر بکری یاگائے ذبح کی گئی اس کے پیٹ میں بچہ مردہ نکلا وہ حلال ہے کہ ماں کی ذبح سے وہ بھی ذبح مانا جائے گا۔خیال رہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں ایسا بچہ مطلقًا حلال ہےخواہ اس کے جسم پر بال جمع ہوں یا فقط گوشت کا لوتھڑا ہو۔امام مالک کےہاں اگر بچہ پورا بن چکا ہے حتی کہ اس کے جسم پربال بھی اگ گئے ہیں توحلال ہے،ورنہ حرام۔ ہمارے امام اعظم قدس سرہ کے نزدیک اگر بچہ زندہ نکلا اور اسےذبح کرلیاگیا تو حلال ہے ورنہ حرام۔یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے،بعض نے فرمایا کہ اگر بچہ زندہ نکلا پھر مرگیا توبھی حلال ہے،بعض نے فرمایا کہ ایسا بچہ حرام ہے،امام صاحب فرماتے ہیں کہ اوّلًا تو یہ حدیث صحیح نہیں اگر صحیح ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ پیٹ کے بچہ کا اس کی ماں کی ذبح کی طرح ہے یعنی جیسے اس کی ماں کو حلقوم و رگوں کوکاٹ کر ذبح کیاجاتا ہے ایسے ہی اس کے بچہ کو ذبح کیاجائے گا۔اورزکوۃ امہمیں زکوۃ منصوب ہے کاف جارہ پوشیدہ ہے یہ منصوب نزع الخافض ہےکیونکہ ایسا شکار اگر پانی میں ڈوبا پایا جائے توکھانا حرام ہے کہ شاید پانی سے مراہو،یوں ہی اس مردہ بچہ میں شبہ ہے کہ وہ دم گھٹنے کی وجہ سے مراہو،امام شافعی کی دلیل یہ حدیث جب نہیں جبکہ عبارت یوں ہوتیزکوٰۃ الحیوان زکٰوۃ الجنین۔لہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے نہ کہ امام شافعی کی۔(مرقات،اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4091