Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4089

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ، وَعَنْ لُحُوْمِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ، وَعَنِ الْخَلِيسَةِ، وَأَنْ تُوْطَأَ الْحَبَالَى حتّٰى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُوْنِهِنَّ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: سُئِلَ أَبُوْ عَاصِمٍ عَنِ الْمُجَثَّمَةِ فَقَالَ: أَنْ يُنْصَبَ الطَّيْرُ أَوِ الشَّيْءُ فَيُرْمَى، وَسُئِلَ عَنِ الْخَلِيسَةِ فَقَالَ: الذِّئْبُ وَ السَّبُعُ يُدْرِكُهُ الرَّجُلُ فَيَأْخُذُ مِنْهُ، فَيَمُوْتُ فِي يَدِهٖ قَبْلَ أَنْ يُذَكِّيَهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن العرباض بن سارية: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى يوم خيبر عن كل ذي ناب من السباع، وعن كل ذي مخلب من الطير، وعن لحوم الحمر الأهلية، وعن المجثمة، وعن الخليسة، وأن توطأ الحبالى حتى يضعن ما في بطونهن، قال محمد بن يحيى: سئل أبو عاصم عن المجثمة فقال: أن ينصب الطير أو الشيء فيرمى، وسئل عن الخليسة فقال: الذئب و السبع يدركه الرجل فيأخذ منه، فيموت في يده قبل أن يذكيها. رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عرباض ابن ساریہ سے ۱؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خیبر کے دن ہر کیل والے درندے سے ۲؎اور ہر پنجے والے پرندے سے۳؎اور پلاؤ ہوا گدھوں کے گوشتوں سے۴؎اور مجثمہ سے اور خلیہ سے منع فرمایا ۵؎اور اس سے کہ حاملہ عورت سے صحبت کی جائے حتی کہ اپنے پیٹوں کے بچے جن دیں۶؎محمد ابن یحیی نے کہا ابو عاصم سے مجثمہ کے متعلق پوچھا گیا ۷؎تو فرمایا وہ ہے کہ پرندہ یا کوئی چیز باندھی جائے پھر تیر سے مارا جائے ۸؎اور خلیہ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا بھیڑیا اور درندہ جسے آدمی پالے تو اس کو چھڑالے پھر وہ ذبح کرنے سے پہلے اس کے قبضہ میں مرجائے۹؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،صفہ والے فقراء صحابہ رضی اللہ عنھم سے تھے،آپ اس جماعت سے ہیں جنہوں نے جہاد کے لیے حضور انور سے سواریاں مانگیں مگر نہ پائیں تو روتے ہوئے واپس ہوئے جن کا یہ ہی واقعہ قرآن کریم میں مذکور ہے، ۷۵ھ؁ ∞ پچھتر ہجری میں وفات پائی۔(اشعہ)
۲
؎جیسے کتا،بلی،شیر،چیتا،بھیڑیا وغیرہ جن کے منہ میں کیلیں ہوتی ہیں مگر وہ شکار نہیں کرتا لہذا حلال کیل میں شکاری کی قید اس لیے لگائی۔
۳
؎یہاں بھی پنجے والی شکاری چڑیاں مراد ہیں جیسے شکرہ،باز،صقر وغیرہ کوّا بھی شکاری ہے پنجہ والا بھی ہے وہ بھی حرام ہے۔طوطے میں اختلاف ہے،بعض کے ہاں وہ حلال ہے اگر چہ وہ پنجے والا تو ہے مگر شکاری نہیں۔ عربی میں اسے یلغار کہتے ہیں۔جن بے وقوفوں نے کوّا حلال مانا انہوں نے یہ حدیث نہ دیکھی ان کی عقلوں پر پردے پڑ گئے۔
۴
؎حمار وحشی نیل گائے حلال ہے،گدھا پہلے حلال تھا خیبر کے دن حرام فرمایا گیا۔
۵
؎خلیہ کی تفسیر آگے آرہی ہے۔اس کا کھانا جب حرام ہے جب کہ وہ بغیر ذبح مرجائے اگر ذبح کرلیا جائے تو حلال ہے پھر وہ خلیہ نہیں۔
۶
؎یعنی جہاد میں جوعورتیں قید ہوکر مسلمانوں کے ہاتھ آئیں لونڈیاں بنائیں جائیں مگر ہوں حاملہ ان سے صحبت حرام ہے اگر حاملہ نہ ہوں تو ایک حیض انتظار کرکے ان سے صحبت درست ہے۔
۷
؎ابوعاصم شیخ ہیں محمد ابن یحیی کے اور محمد ابن یحیی شیخ ہیں امام ترمذی کے جو اس حدیث کے راوی ہیں،یعنی میں ابو عاصم کے پاس تھا کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ مجثمہ کس جانور کو کہتے ہیں،جسے شریعت نے حرام کیا ہے اس کی حقیقت کیا ہے۔
۸
؎یعنی مرغی،بکری وغیرہ اپنے قبضہ کاجانور ہے باندھ کر اسے تیرمارا جائے اس طرح وہ مرجائے ہے یہ حرام ہے۔اگر اس زخمی کو ذبح کرلیا جائے تو گوشت حلال ہے مگر یہ کام حرام ہے۔
۹
؎یعنی اگر مرغی کو بلی یا بکری کو بھیڑیا یا چیتا وغیرہ جانور پکڑے لوگ اس کے منہ سے چھڑالیں ذبح نہ کرسکیں وہ زخم کی وجہ سے مرجائے وہ خلیہ ہے اور حرام ہے۔خلیہبنا ہےخلسسے بمعنی اچک لینا،چھین لینا،اس سے ہےاختلاس۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4089