Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4085

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نُهِينَا عَنْ صَيْدِ كَلْبِ الْمَجُوْسِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن جابر قال: نهينا عن صيد كلب المجوس. رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم کو مجوسیوں کےکتے کے شکار سے منع فرمایا گیا ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ مجوسی کا ذبیحہ حرام ہے تو اس کا مارا ہوا شکار حلال ہے اور اگر مسلمان کا کتا مجوسی نے چھوڑا تو اس کا مارا شکار حرام ہے اور اگر مسلمان و مجوسی دونوں نے اپنے کتے چھوڑے دونوں نے مل کر شکار کیا تب بھی جانور حرام ہے مسلمان ہرگز نہ کھائے۔غرضیکہ کتا چھوڑنے والے کا اعتبارہے،کتے کا اعتبار نہیں یہ بہت خیال رہنا چاہیے۔(مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ عیسائی یہودی کا شکاری کتا شکار کرے تو حلال ہے اگرچہ اسے عیسائی یا یہودی نے چھوڑا ہو۔اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہے تو اس کا شکاربھی حلال مگر شرط یہ ہے کہ وہ کتا بھیبسم اﷲپڑھ کر چھوڑے مسیح یا عزیز کے نام پر نہ چھوڑے کہ غیر خدا کے نام پر ذبیحہ تو مسلمان کا بھی حرام ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4085