Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4066

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ الكِتَابِ، أَفَنَأْكَلُ فِي آنِيتِهِمْ، وَبِأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ وَبِكَلْبِي الْمُعَلَّم، فَمَا يَصْلُحُ لِي؟ قَالَ: "أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ آنِيَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَهَا فَلَا تَأْكُلُوْا فِيهَا، وَإِنْ لَمْ تَجدُوْا فَاْغسِلُوْهَا وَكُلُوْا فِيهَا، وَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللّٰهِ فَكُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللّٰهِ فَكُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ غَيْرِ مُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهٗ فَكُلْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي ثعلبة الخشني قال: قلت: يا نبي الله! إنا بأرض قوم أهل الكتاب، أفنأكل في آنيتهم، وبأرض صيد أصيد بقوسي وبكلبي الذي ليس بمعلم وبكلبي المعلم، فما يصلح لي؟ قال: "أما ما ذكرت من آنية أهل الكتاب فإن وجدتم غيرها فلا تأكلوا فيها، وإن لم تجدوا فاغسلوها وكلوا فيها، وما صدت بقوسك فذكرت اسم الله فكل، وما صدت بكلبك المعلم فذكرت اسم الله فكل، وما صدت بكلبك غير معلم فأدركت ذكاته فكل". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ثعلبہ خشنی سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا نبی اللہ ہم اہل کتاب کی زمین میں رہتے ہیں تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھاسکتے ہیں ۲؎اور ہم شکار کی زمین ہی میں ہیں اپنی کمان اور اپنے سکھائے ہوئے کتے سے اور بغیر سکھائے کتے سے شکار کرتا ہوں تو کیا چیز درست ہے ۳؎فرمایا جو تم نے کتابیوں کے برتنوں کے متعلق پوچھا تو اگر تم اس کے سوا اور برتن پاؤ تو اس میں نہ کھاؤ اور اور اگر نہ پاؤ تو اسے دھولو اور اس میں کھاؤ ۴؎اور جو تم اپنی کمان سے شکار کرو اس پر اللہ کا نام لیا ہو توکھاؤ ۵؎اور جوتم اپنے سکھائے ہوئے کتے سے شکار کرو اس پر اللہ کا نام لو تو کھالو اور جو اپنے غیر سکھائے ہوئے کتے سے شکارکرو تو اس کی ذبح کو پالو تو کھالو۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ اپنی کنیت میں مشہور ہیں،قبیلہ خشن سے ہیں،بیعت الرضوان میں شریک ہوئے،حضورصلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کو اپنی قوم کا مبلغ بناکر بھیجا،آپ کی تبلیغ سے وہ سب مسلمان ہوگئے،آپ کا قیام شام میں رہا، ۷۵ھ؁ ∞ پچہتّر ہجری میں وفات پائی۔(اشعہ و مرقات)
۲
؎یعنی ہم کو ان اہل کتاب کے گھروں یا دوکانوں میں کبھی کھانا پڑ جاتا ہے یا وہ لوگ کبھی ہم کو سالن وغیرہ بھیجتے ہیں تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھالیا کریں۔خیال رہے کہ اہل کتاب سے خریدوفروخت بھی جائز ہے ان کے ہدیے قبول کرنا بھی جائز ہے۔
۳
؎یعنی ہمارے ملک میں شکار بہت پایا جاتا ہے اور ہم لوگ عمومًا شکار کیا کرتے ہیں،تیروں سے بھی،شکاری کتوں سے بھی اور آوارہ کتوں سے بھی ان میں سے کون سا شکار حلا ل ہے کون سا نہیں،نہایت قابلیت کا سوال ہے ایک عبارت میں چار مسئلے پوچھ لیے۔
۴
؎اس بے نظیر و بے مثال جواب میں فتویٰ بھی ہے،تقویٰ بھی۔تقویٰ یہ ہے کہ ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ اور فتویٰ یہ ہے کہ دھوکر کھالو۔یہ ان کفار کے استعمال کے برتنوں کا ذکر ہے جن میں قوی احتمال یہ ہے کہ وہ سؤر اور شراب استعمال کرتے ہوں گے ان کے غیر استعمالی برتن جو بالکل نئے ہوں ان کے دھونے کی ضرورت نہیں،ان کے ہاں کا پکا ہوا کھانا بھی اسی تفصیل پر ہے کہ تقویٰ یہ ہے کہ نہ کھائے ممکن ہے کہ انہوں نے ایسے برتن میں پکایا ہو جس میں سؤر بھی پکاتے ہوں اورفتویٰ یہ ہے کہ اگر اس کی طہارت غالب گمان سے معلوم ہو تو کھالے اس کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کرو۔
۵
؎یعنیبسم اﷲاﷲاکبرپڑھ کر تیر مارا ہو حقیقتًا پڑھا ہو یا حکمًا اور جانور مرگیا ہوتو کھالو کہ اس کا یہ ذبیحہ ہوگیا۔خیال رہے کہ اگر مسلمان ذبح یا تیر مارتے وقتبسم اﷲپڑھنا بھول گیا ہو تو ذبیحہ وشکار حلال ہے، دانستہ چھوڑ دیا تو احناف کے ہاں حرام ہے،شوافع کے ہاں جائز ہے۔تحقیق کتب فقہ پر ملاحظہ کرو۔
۶
؎یعنی شکاری کتا جس پر چھوڑتے وقتبسم اﷲپڑھ دی گئی ہو اگر جانور اس سے زخمی ہوکر مرگیا ہو تب بھی حلال ہے اور آوارہ کتے کا شکاراگر زندہ مل جائے اور ذبح کرلیا جائے تو حلال ہے ورنہ حرام۔خلاصہ یہ ہے کہ مردہ شکار کے حلال ہونے کی تین شرطین بیان فرمائیں:کتے کا معلم یعنی شکاری ہونا،اسے چھوڑتے وقتبسم اﷲپڑھ لینا،زخمی ہوکر جانور کا مرنا کہ اس کا خون بہہ جائے اگر ان میں سے کوئی شرط نہ ہو تو شکار حرام ہے۔رب تعالٰی کا فضل ہے کہ میں آج کل تفسیر قرآن کا چھٹا پارہ لکھ رہا ہوں اور مرآت کی چھٹی جلد اور حسنِ اتفاق ہے کہ آج تفسیر نعیمی میں سورۂ مائدہ کی تفسیر میں شکار کی آیت کی تفسیر شکار کے مسائل آج ہی لکھے ہیں اور مرآت میں بھی یہ ہی مسائل آج ہی لکھ رہا ہوں،رب تعالٰی قبول فرمائے۔یہ آج پندرہ جمادی الاخر ۱۳۸۵ھ؁ ∞ گیارہ اکتوبر ۱۹۶۵؁ ∞ بروز دوشنبہ لکھ رہا ہوں،رب تعالٰی دونوں کتابیں قبول فرماکر صدقہ جاریہ بنائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4066