Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4071

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا، وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ؟ قَالَ: "مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ فَكُلْ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْهُ: أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشِ" وَأَصَبْنَا نَهْبَ إِبِلٍ وَغَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهٗ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ لِهٰذِهِ الإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ فَافْعَلُوْا بِهٖ هَكَذَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن رافع بن خديج قال: قلت: يا رسول الله! إنا لاقو العدو غدا، وليست معنا مدى أفنذبح بالقصب؟ قال: "ما أنهر الدم وذكر اسم الله فكل، ليس السن والظفر، وسأحدثك عنه: أما السن فعظم، وأما الظفر فمدى الحبش" وأصبنا نهب إبل وغنم فند منها بعير، فرماه رجل بسهم فحبسه، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن لهذه الإبل أوابد كأوابد الوحش، فإذا غلبكم منها شيء فافعلوا به هكذا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہم کل دشمن سے بھڑنے والے ہیں اور ہمارے پاس چھریاں ہی نہیں تو کیا ہم بانس سے ذبح کریں ۱؎فرمایا جو خون بہادے اورکا نام لیا جائے تو کھالو ۲؎سواء دانت اور ناخن کے کہ میں اس کے متعلق بتاتا ہوں لیکن دانت تو ہڈی ہے ۳؎لیکن ناخن وہ حبشیوں کی چھری ہے۴؎اور ہم نے اونٹ و بکریاں غنیمت میں حاضر کیں تو ان میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا تو ایک شخص نے اسے تیر مار کر دھرلیا ۵؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ان اونٹوں کی عادات وحشیوں کی عادات سی ہیں ۶؎تو جب ان میں سے کوئی جانور تم پر غالب آئے تو تم ان سے یہ ہی کرو ۷؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کل سے مراد یا تو اگلا زمانہ ہے یا اگلا کل۔مقصد یہ ہے کہ ہم جہاد میں جاتے ہیں،ان کے جانور غنیمت میں ملتے ہیں کبھی انہیں ذبح کرنا پڑجاتاہے اور ہمارے پاس چھری ہوتی نہیں کیا ہم بانس کی کھپچ سے ذبح کرلیں کیونکہ اس میں بھی دھار ہوتی ہے جانور ذبح ہو سکتا ہے۔بانس کا نام بطور مثال لیا ہے مراد ہے ہر دھاردار چیز بانس کا ٹکڑا ہو کانچ کا یا پتھر کا۔
۲
؎یعنی ہاں ذبح کرسکتے ہو اور کھاسکتے ہو،یہ حکم شکار اور غیر شکار سب کو شامل ہے تیر یا تلوار سے شکار کو قتل کیا تو حلال ہے یوں ہی دھار دار آلہ سے بکری کو ذبح کیا حلال ہے۔
۳
؎اور ہڈی سے جیسے استنجاء کرنا منع ہے کہ اس سے وہ نجس ہوجاتی ہے ایسے ہی ذبح کرنا منع ہے کہ اس سے وہ نجس ہوگی،یہ ہمارے بھائی جنات کا کھانا ہے۔
۴
؎لہذا اس سے ذبح کرنے میں کفار حبشہ سے مشابہت ہے لہذا اس سے بچو۔خیال رہے کہ امام اعظم کے نزدیک جبڑے میں جڑے ہوئے دانتوں سے اور اپنے مقام پر لگے ہوئے ناخن کا ذبیحہ حرام ہے اور الگ دانت الگ ناخن سے ذبح کرنا مکروہ مگر اس سے ذبح ہوجائے گا،باقی اماموں کے ہاں مطلقًا دانت و ہڈی کا ذبیحہ حرام ہے،دلائل کتب فقہ میں اور مرقات و اشعہ میں ملاحظہ کرو۔
۵
؎یعنی غنیمت کا ایک اونٹ سرکش ہوکر بھاگ گیا پکڑا نہ جاتا تھا تو ایک شخص نے اسے تیر مارا جس سے وہ زخمی ہوکر گر گیا اور مرگیا۔(مرقات)
۶
؎اوابدجمع ہےآبدۃکی،آبدۃکے معنی ہیں نفرت اور وحشت کی عادت یعنی اونٹ ہے تو پالتو جانور مگر کبھی اس میں وحشی جانوروں کی نفرت و وحشت ہوجاتی ہے اور یہ وحشی بن جاتاہے۔
۷
؎یعنی پالتو جانور کا ذبح حلق و گلے میں ہوتا ہے اور شکار کا جانور جو قبضہ میں نہ ہو اس کا ذبح یہ ہے کہ جہاں بھی شکاری کا تیر لگ جائے و خون بہہ جائے ذبح ہوجائے گا مگر جب پالتو جانور وحشی ہوکر قبضہ سے باہر ہوجائے تو اس کا ذبح بھی اس طرح درست ہوگا کہ جہاں تیر لگ جائے خون نکل جائے ذبح درست ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر بکری یا مرغی کنوئیں میں گرجائے وہاں مر رہی ہو تو اس کا ذبیحہ بھی اسی طرح ہوجائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4071