Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4083

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَا عَلَّمْتَ مِنْ كَلْبٍ أَوْ بَازٍ، ثُمَّ أَرْسَلْتَهٗ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللّٰهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ". قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ؟ قَالَ: "إِذَا قَتَلَهٗ وَلَمْ یَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَكَهٗ عَلَيْكَ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عدي بن حاتم أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:"ما علمت من كلب أو باز، ثم أرسلته، وذكرت اسم الله فكل مما أمسك عليك". قلت: وإن قتل؟ قال: "إذا قتله ولم یأكل منه شيئا فإنما أمسكه عليك". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عدی ابن حاتم سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جس کتے یا باز کو تم سکھا لو پھر اسے چھوڑو اورکا نام ذکر کردو تو اس میں سے کھاؤ ۱؎جو اس نے تمہارے لیے روک رکھا ہے میں نے عرض کیا کہ اگرچہ وہ قتل کردے فرمایا اگرچہ قتل کردے ۲؎اور اس میں سے کچھ نہ کھائے کیونکہ اس نے تمہارے واسطے روکا ہے۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎کتے اور باز کا ذکر بطور مثال ہے ورنہ ہر شکاری جانور کا یہ ہی حکم ہے جیسے سکھایا ہوا چیتا یا شکرہ،ہاں بلی اس حکم سے خارج ہے کہ وہ اس معنی سے شکاری نہیں کہ جنگل میں دوڑ کر حملہ کرکے جانور شکارکرے وہ تو صرف گھر کے چوہوں مرغیوں کا شکار کرتی ہے۔
۲
؎معلوم ہوا کہ اس قسم کے شکار،شکاری جانور کا قتل کر ڈالنا مضر نہیں بلکہ کھانا مضر ہے اگرچہ کھالیا ہے تو بقیہ گوشت حرام ہے ورنہ حلال۔
۳
؎یعنی اس کا کچھ نہ کھانا اس بات کی علامت ہے کہ اس نے وہ گوشت تمہارے لیے بچا کر رکھا ہے اور وہ سدھا ہوا شکاری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4083