Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4079

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: غَدَوْتُ إِلَى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ اللّٰهِ ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ لِيُحَنكِّهُ، فَوَافَيْتُهٗ فِي يَدِهِ الْمِيسَمُ يَسِمُ إِبِلَ الصَّدَقَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أنس قال: غدوت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعبد الله ابن أبي طلحة ليحنكه، فوافيته في يده الميسم يسم إبل الصدقة. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عبدابن ابوطلحہ کو لے گیا تاکہ آپ اس کی تحنیک فرمادیں ۱؎تو میں نے آپ کو پایا کہ آپ کے ہاتھ میں داغے کا آلہ تھا صدقہ کے اونٹوں کو داغ رہے تھے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عبدابن ابوطلحہ حضرت انس کے سوتیلے بھائی ہیں یعنی ماں شریک بھائی ہیں،حضرت انس تو ام سلیم کے پہلے خاوند سے پیدا ہوئے تھے مگر یہ عبدحضرت ابوطلحہ سے تھے،حضرات صحابہ اپنے نومولود بچے کو حضور کی خدمت میں لاتے تھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کھجور چباکر اپنی زبان شریف سے بچے کے تالو میں لگادیتے تھے تاکہ بچے کے منہ میں سب سے پہلے حضور کا لعاب شریف پہنچے،اس عمل کا نامتحنیكہے۔
۲
؎یعنی آپ بنفس نفیس اس آلہ سے زکوۃ کے اونٹوں کو داغ دے رہے تھے تاکہ زکوۃ کے اونٹ دوسرے اونٹوں سے چھٹ جائیں۔یہ داغ چہرے کے علاوہ اورکسی عضو پر لگائے جاتے تھے۔لوہے کا ٹکڑا گرم کرکے جانور کے ران یا ٹانگ پر داغ دیا جاتا ہے،یہ داغ پھر کبھی چھوٹتا نہیں،رنگ وغیرہ کے نشانات مٹ جاتے ہیں۔ہم نے بعض حبشیوں کو دیکھا کہ ان کے رخسار پر لکیریں داغی ہوتی ہیں یہ حرام ہے جیساکہ گزشتہ حدیث سے معلوم ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4079