Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4082

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي العُشَراءِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهٗ قَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَمَا تَكُوْنُ الذَّكَاةُ إِلَّا فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ؟ فَقَالَ: "لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لأَجْزَأَ عَنْكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ، وَقَالَ أَبُوْ دَاوُدَ: وَهٰذَا ذَكَاةُ الْمُتَرَدِّي، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا فِي الضَّرُوْرَةِ.

وعن أبي العشراء عن أبيه أنه قال: يا رسول الله! أما تكون الذكاة إلا في الحلق واللبة؟ فقال: "لو طعنت في فخذها لأجزأ عنك". رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي، وقال أبو داود: وهذا ذكاة المتردي، وقال الترمذي: هذا في الضرورة.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو العشراء سے وہ اپنے والد سے ۱؎راوی کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا ذبح حلق اور سینہ کے بغیر ہی نہیں ہوتا ۲؎تو فرمایا اگر تم اس کی ران میں نیزہ مارو تو کافی ہے۳؎(ترمذی، ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ گرے ہوئے کاذبح ہے ۴؎اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ ضرورت کی حالت میں ہے ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎ابوالعشراء عین کے پیش سے،ان کا نام اسامہ ابن مالک ہے،تابعی ہیں،دارمی بصری ہیں،اپنے والد سے روایت کرتے ہیں،بعض محدثین نے ان کو ضعیف کہا ہے،چنانچہ ابن حبان نے ان کی توثیق کی ہے اور امام احمد ابن حنبل نے ان کو ضعیف فرمایا۔(اشعہ)
۲
؎لبہحلق کا آخری کنارہ جو سینہ سے متصل ہے یا سینہ کے اوپری کنارہ جو حلقوم سے قریب ہے۔سوال کا مقصد یہ ہے کہ کیا ذبح کی یہ ہی صورت ہے کہ گلے اور سینے کے درمیان ہو،اگر یہ ہی ذبح ہے تو جو جانور قبضہ میں نہ ہو اور مر رہا ہواسے ذبح کیسے کیاجائے جیسے کنوئیں میں گری ہوئی بکری۔
۳
؎یہ اضطراری ذبح کا ذکر ہے جب جانور قبضہ میں نہ ہو اور اس کا ذبح کرنا ضروری ہو تو جہاں کہیں نیزہ بھالا مار دیا جائے اور خون بہہ جائے ذبح ہوجائے گا جیسے بھاگی ہوئی گائے،کنوئیں میں گرا ہوا جانور اور تیر سے مارا ہوا شکار۔
۴
؎یعنی کنوئیں میں گرا ہوا جانور جب اس کے نکالنے کی کوئی صورت نہ ہو اور اس کے مرجانے کا اندیشہ ہو تب اس طرح ذبح کرلیا جائے۔
۵
؎یہ تفسیر پہلی تفسیر سے زیادہ عام اور زیادہ شامل ہے،اس میں کئی صورتیں داخل ہیں جو ابھی ہم نے حاشیہ نمبر۲ میں بیان کیں جسے ذبح اضطراری کہتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4082