Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4069

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَة قَالَتْ: قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّ هُنَا أَقْوَامًا حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِشِرْكٍ، يَأْتُوْنَنَا بِلُحْمَانٍ لَا نَدْرِي أَيَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا أَمْ لَا؟ قَالَ: "اذْكُرُوْا أَنْتُمْ اسْمَ اللّٰهِ وَكُلُوْا" رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن عائشة قالت: قالوا: يا رسول الله! إن هنا أقواما حديث عهدهم بشرك، يأتوننا بلحمان لا ندري أيذكرون اسم الله عليها أم لا؟ قال: "اذكروا أنتم اسم الله وكلوا" رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ یہاں کچھ ایسی قومیں ہیں جن کا زمانہ شرک کے قریب میں ۱؎ہے وہ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں ہم جانتے نہیں کہ اس پر اللہ کانام لیتے ہیں یا نہیں فرمایا تمبسم اللهکرو اور کھاؤ ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی وہ لوگ مسلمان تو ہوگئے ہیں مگر انہیں مسلمان ہوئے تھوڑا عرصہ ہی ہوا ہے،اسلامی احکام سے بے خبر ہیں،ذبح وغیرہ کے احکام نہ جانتے ہوں گے ان کے متعلق شک ہی ہے کہ انہوں نےبسم اﷲسے ذبح کیا ہے یا بغیربسم اﷲیوں ہی۔
۲
؎یعنی تم بلاوجہ مسلمان کے ذبیحہ پر شک نہ کرو وہ حلال ہے تم بلا دغدغہبسم اﷲکرکے کھاؤ۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر بوقت ذبحبسم اﷲنہ پڑھی گئی تو اب کھاتے وقتبسم اﷲپڑھنا کافی ہوگا یہ تو ناممکن ہے لہذا یہ حدیث واضح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4069