Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4087

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ قَبِيصَةَ ابْنِ هُلْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ طَعَامِ النَّصَارَى -وَفِي رِوَايَةٍ: سَأَلَهٗ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ مِنَ الطَّعَامِ طَعَامًا أتحَرَّجُ مِنْهُ- فَقَالَ: "لَا يَتَخَلَّجَنَّ فِي صَدْرِكَ شَيْءٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن قبيصة ابن هلب عن أبيه قال: سألت النبي صلى الله عليه وسلم عن طعام النصارى -وفي رواية: سأله رجل فقال: إن من الطعام طعاما أتحرج منه- فقال: "لا يتخلجن في صدرك شيء ضارعت فيه النصرانية". رواه الترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے قبیصہ ابن ھلب سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے عیسائیوں کے کھانے کے متعلق پوچھا اورایک روایت میں ہے کہ حضور سے ایک آدمی نے پوچھا ۲؎تو فرمایا کھانوں میں سے ایک کھانا ہے جس میں ہم حرج سمجھتے ہیں۳؎فرمایا تمہارے سینہ میں کچھ نہ چبھنا چاہیے۴؎تم اس بارے میں عیسائیت سے مشابہہ ہوگئے ۵؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎قبیصہ تابعی ہیں،ان کے والد ھلب صحابی ہیں،ھلب ان کا لقب ہے،نام یزید ابن قنافہ ہے،قبیلہ بنی طی سے ہیں۔قبیصہ کو نسائی اور ابن مدین نے مجہول کہا،امام عجلی اور ابن حبان نے ثقہ فرمایا۔(اشعہ،مرقات)ابوداؤد اور ترمذی نے ان سے صرف یہ ہی حدیث روایت کی۔
۲
؎یعنی یہودونصاریٰ کے پکائے ہوئے حلال کھانے مسلمانوں کو کھانا مباح ہیں یا نہیں جیسے ان کے ہاتھ کی پکی ہوئی روٹی،چاول، دال،بکری وغیرہ کا گوشت،یہ پوچھنے والے عدی ابن حاتم تھے جو پہلے عیسائی تھے بعد میں مسلمان ہوئے جیساکہ اشعہ میں ہے۔
۳
؎یعنی اہل کتاب وغیرہم کے پکائے ہوئے کھانوں میں ہم کو شبہ رہتا ہے کہ یہ کھانے یا پانی یا برتن پاک ہیں یا نہیں ہم انہیں کھائیں یا نہ کھائیں۔
۴
؎یعنی ایسے کسی کھانے میں بلاوجہ شک نہ کرو شوق سے کھاؤ بغیر دلیل کسی چیز کو ناپاک نہ سمجھو،اسلام میں آسانی ہے ایسی سختیاں نہیں۔خیال رہے کہ یہاں وہم کا ذکر ہے یعنی بلا دلیل ایسے کھانوں کو ناپاک یا حرام سمجھنا کہ شاید پکانے والے کے ہاتھ یا برتن گندے ہوں یا محض وہم۔
۵
؎یعنی تم ایسے شبہات کرکے متقی نہ ہو گے بلکہ عیسائیت کے مشابہ ہوجاؤ گے جو اس قسم کے وہم میں مبتلا ہو کر تارک دنیا اور راہب بن جاتے ہیں اسلام میں ایسے وہموں کا اعتبار نہیں،چونکہ حضرت عدی ابن حاتم پہلے عیسائی تھے اس لیے حضور انور نے عیسائیت کا ذکر فرمایا کہ تم مسلمان ہوجانے کے بعد بھی عیسائیوں کے مشابہ کیوں بنتے ہو۔(اشعہ)اسلام میں ظاہر کا اعتبار ہے۔جھوٹے وسوسے، شبہے اسلام میں معتبر نہیں۔اس حدیث نے معاملہ ہی صاف کردیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4087