Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4096

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَطَاءَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّهٗ كَانَ يَرْعَى لِقْحَةً بِشِعْبٍ مِنْ شِعَابِ أُحُدٍ، فَرَأَى بِهَا الْمَوْتَ فَلَمْ يجِدْ مَا يَنْحَرُهَا بِهٖ ، فَأَخَذَ وَتِدًا فَوَجَأَ بِهٖ فِي لَبَّتِهَا حتّٰى أَهْرَاقَ دَمَهَا، ثُمَّ أَخْبَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهٗ بِأَكْلِهَا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَمَالِكٌ وَفِي رِوَايَتِهٖ: قَالَ: فَذَكَّاهَا بِشِظَاظٍ.

عن عطاء بن يسار عن رجل من بني حارثة أنه كان يرعى لقحة بشعب من شعاب أحد، فرأى بها الموت فلم يجد ما ينحرها به ، فأخذ وتدا فوجأ به في لبتها حتى أهراق دمها، ثم أخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فأمره بأكلها. رواه أبو داود ومالك وفي روايته: قال: فذكاها بشظاظ.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عطاء ابن یسار سے ۱؎وہ بنی حارثہ کے ایک شخص سے روای ۲؎وہ احد کی گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں اونٹنی چرایا کرتے تھے ۳؎تو اس پر موت دیکھی، ایسی چیز نہ پائی جس سے اسے ذبح کریں انہوں نے ایک میخ لی وہ اس کی گھنڈٰ ی میں گھونپ دی ۴؎حتی کہ اس کا خون بہادیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو حضور انور نے اس کے کھانے کاحکم دیا(مالک)اور ان کی روایت میں ہے کہ فرمایا اسےدھاردار لکڑی سے ذبح کرو ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎تابعی ہیں،کنیت ابو محمد ہے،ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہاکے آزاد کردہ غلام ہیں،مدینہ منورہ میں قیام رہا ،چوراسی سال عمر پائی، ۹۷ھ؁ ∞ ستانوے میں وفات پائی۔
۲
؎چونکہ یہ صاحب صحابی ہیں اور صحابہ تمام کے تمام عادل ثقہ ہیں اس لئے ان کا نا م معلوم نہ ہونا صحت حدیث کے لیے مضر نہیں۔
۳
؎لقمہ وہ حاملہ اونٹنی جسکا بچہ عنقریب پیدا ہونے والا ہو یا قریب ہی میں پیدا ہوچکا ہو۔شعب پہاڑ کادرہ یا دو پہاڑوں کے درمیان راستہ یا پانی کی گزرگاہ۔(مرقات و اشعہ)احد مدینہ منورہ کا مشہور پہاڑ ہے جس کی زیارت کی جاتی ہے۔
۴
؎اس طرح کے اس میخ کے گھونپنے سے اس کے گلے میں سوراخ ہوگیا اور خون بہ گیا اور حلقوم کٹ گیا۔
۵
؎شظاظشین کے کسرہ،پہلی ظ کے شد بمعنی وہ دھاری لکڑی جس کے دونوں طرف دھار ہوگئی ہو۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4096