Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4078

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ حِمَارٌ وَقَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهٖ قَالَ: "لَعَنَ اللّٰهُ الَّذِي وَسَمَهٗ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه: أن النبي صلى الله عليه وسلم مر عليه حمار وقد وسم في وجهه قال: "لعن الله الذي وسمه". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک گدھا گزرا جس کے چہرے میں داغ لگایا گیا تھاتو فرمایا کہ اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اسے داغا ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اگر یہ گدھا کسی کافر یا منافق کا تھا اور اس نے ہی یہ حرکت کی تھی تب تو لعنت کے معنی بالکل ظاہر ہیں اور اگر کسی مسلمان کا تھا تو لعنت بالوصف گنہگار مسلمان پر جائز ہے جیسے کہا جائے کہ جھوٹے پر لعنت۔خیال رہے کہ چہرے میں داغ لگانا مطلقًا حرام ہے خواہ جانور کے لگائے یا انسان کے۔چہرے کے علاوہ جانوروں کو داغنا علامت و پہچان کے لیے جائز ہے خصوصًا زکوۃ وجزیہ کے جانور۔انسان کے داغ لگانا علاج کے لیے جائز ہے جیسے بعض بیماریوں کا علاج داغ دینا ہی ہوتا ہے،علاج کے علاوہ ممنوع۔حضرت ابی ابن کعب،سعد ابن معاذ،حضرت جابر اور اسعد ابن زرارہ وغیرہم صحابہ کرام نے بعض زخموں میں داغ لگائے ہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم سے۔اس داغ کو عربی میںگیّکہتے ہیں۔جن احادیث میںگیّیعنی داغنے سے منع فرمایا ہے وہاں وجہ کچھ اور ہے جوان شاء اﷲہمکتاب الطبمیں عرض کریں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4078