Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4073

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَاحْسِنُوا الذَّبْحَ،وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهٗ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهٗ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن شداد بن أوس عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إن الله تبارك وتعالى كتب الإحسان على كل شيء، فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فاحسنوا الذبح،وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت شداد ابن اوس سے ۱؎وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایاتعالٰی نے ہر چیز پر احسان کرنے کا حکم دیا ہے ۲؎لہذا جب تم قتل کرو تو احسان و بھلائی سے قتل کرو ۳؎اور جب تم ذبح کرو تو ذبح بھلائی سے کرو ۴؎تم میں سے ہر ایک اپنی چھری تیز کرلیا کرے اور اپنے ذبیحہ کو راحت دے ۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ حضرت حسان ابن ثابت کے بھتیجے ہیں کیونکہ اوس اور حسان دونوں ثابت کے بیٹے ہیں،خود بھی صحابی ہیں اور آپ کے والد یعنی ثابت ابن منذر بھی صحابی ہیں،حضرت ابوالدرداء اور عبادہ ابن صامت فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے شداد ابن اوس کو علم و حلم دونوں عطا فرمائے۔(اشعۃ اللمعات)
۲
؎یعنی انسان ہو یا جانور مؤمن ہو یا کافر سب کے ساتھ اس کے مناسب بھلائی و سلوک کرنا لازم ہے۔ظلم کسی پر جائز نہیں،یہ ہے حضور کے رحمۃ اللعالمین ہونے کی شان۔
۳
؎یعنی اگر تم قاتل یا کافر کو قصاص یا جنگ میں قتل کرو تو ان کے اعضاء نہ کاٹو مثلہ نہ کرو پتھر کی چھری اور کھٹل تلوار سے ذبح نہ کرو کہ یہ رحم کے خلاف ہے۔
۴
؎اس بھلائی کی کئی صورتیں ہیں: مثلًا جانور کو ذبح سے پہلے خوب کھلا پلا لیا جائے ایک کے سامنے دوسرے کو ذبح نہ کیا جائے اس کے سامنے چھری تیز نہ کی جائے،ماں کے سامنے بچے کو اور بچے کے سامنے ماں کو ذبح نہ کیا جائے،مذبح کی طرف گھسیٹ کر نہ لے جایا جائے اور جان نکل جانے سے پہلے اس کی کھال نہ اتاری جائے کہ یہ تمام باتیں ظلم و زیادتی ہیں۔
۵
؎تیز چھری سے ذبح کردینے میں راحت ہے،کھنڈی چھری سے ذبح کرنے میں بہت تکلیف ہوتی ہے اس سے بچے،پوری گردن نہ کاٹ دے صرف حلقوم اور رگیں کاٹے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4073