Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4095

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يَجُبُّوْنَ أَسْنِمَةَ الإِبِلِ، وَيَقْطَعُوْنَ أَلْيَاتِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: "مَا يُقْطَعُ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ لَا تُؤْكَلُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن أبي واقد الليثي قال: قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة وهم يجبون أسنمة الإبل، ويقطعون أليات الغنم، فقال: "ما يقطع من البهيمة وهي حية فهي ميتة لا تؤكل". رواه الترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو واقد لیثی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے حالانکہ لوگ اونٹ کی کوہان اور بکری کی چوتڑ کاٹ لیا کرتے تھے ۲؎تو حضور نے فرمایا کہ جو حصہ جانور کا کاٹ لیا جائے اور جانور زندہ ہو تو وہ حصہ مردار ہے نہ کھایاجائے ۳؎(ترمذی، ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام حارث ابن عوف ہے،ابو واقد کنیت ہے،قبیلہ بنی لیث سے ہیں،قدیم الاسلام ہیں،بدر میں حاضر ہوئے،بعد میں مکہ معظمہ رہے،وہاں ہی ۶۸ھ؁ ∞ ارسٹھ میں وفات پائی،پچھتر سال عمر ہوئی۔
۲
؎یعنی بقدر ضرورت زندہ اونٹ زندہ بکری کے اعضاء کاٹ کر کھالیتے جانور اسی طرح چیختا رہتا تھا۔مہینوں تک اس کے اعضاء کاٹ کاٹ کر کھاتے رہتے وہ زندہ تڑپتا رہتا،جو قوم اپنی بچیوں کو اپنے ہاتھ سے زندہ دفن کردیتے اس سے یہ کام کیا بعید ہے۔
۳
؎یعنی زندہ جانور کا جو عضو کٹ جاوے وہ مردار ہے،اس کا کھانا حرام ہے لہذا اگر شکار کو نیزہ یاتیر مارا جس سے اس کا ہاتھ یاپاؤں کٹ کر الگ ہوگیا پھر اسے ذبح کیاگیا تو وہ کٹا ہوا پاؤں حرام ہے باقی حلال۔بعض لوگ زندہ دنبہ کی چکی سے چربی نکال لیتے ہیں وہ چربی کھانا بھی حرام ہے۔خیال رہے کہ یہ حدیث اعضاء جانور کے کھانے کے متعلق ہے۔زندہ بھیڑ کی اون،زندہ ہاتھی کے کاٹے ہوئے دانت کا استعمال حلال ہے اور زندہ جانور کے پیٹ سے نکالا ہوا بچہ جو پیٹ چاک کرکے نکالا جائے اور ہو مردہ وہ کھانا حرام ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4095