Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4065

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّا نُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ قَالَ: "كُلْ مَا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ" قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟ قَالَ: "وَإِنْ قَتَلْنَ" قُلْتُ: إِنَّا نَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ قَالَ: "كُلْ مَا خَزَقَ، وَمَا أصَابَ بِعَرْضِهٖ فَقَتَلَ فَإِنَّهٗ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قلت: يا رسول الله! إنا نرسل الكلاب المعلمة قال: "كل ما أمسكن عليك" قلت: وإن قتلن؟ قال: "وإن قتلن" قلت: إنا نرمي بالمعراض قال: "كل ما خزق، وما أصاب بعرضه فقتل فإنه وقيذ فلا تأكل". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم اپنے سکھائے ہوئے کتے چھوڑتے ہیں ۱؎فرمایا جو تم پر روک لیں وہ کھالو میں نے کہا اگرچہ قتل کردیں فرمایا اگرچہ قتل کر دیں ۲؎میں نے کہا ہم تیر سے مارتے ہیں۳؎فرمایا جو پھاڑ دے وہ کھالو اور جو چوڑائی میں لگے پھر قتل کردے تو وہ موقوذہ ہے وہ نہ کھاؤ ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کلب معلم(شکاری)وہ کتا ہے جو مالک کے چھوڑنے پر دوڑ جائے واپسی کے اشارہ پر واپس آجائے اور شکار میں کچھ نہ کھائے۔جب تین بار اس کا تجربہ کرلیا جائے تو وہ معلم ہے اگر وہ جانور کو زخمی کردے اور جانور مرجائے تو حلا ل ہے اگر بغیر زخم کے مرگیا تو حرام ہے۔
۲
؎بشرطیکہ جانور اس کے دانت سے زخمی ہو خون بہا ہو۔
۳
؎معراض وہ بھاری تیر ہے جس میں نہ پر ہو نہ نوک والا لوہا،لکڑی نوکیلی ہو۔
۴
؎یعنی وہ تیر وسط کے لحاظ سے لاٹھی ہے کنارہ کے لحاظ سے تیر ہے لہذا اگر نوک کی طرف سے لگے تو حلال ہے اگر لاٹھی کی طرح بیچ سے لگے جس کے بوجھ سے شکار مرجائے تو وہ لاٹھی سے مارا ہوا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4065