Main Icon

باب:شکار اور ذبیحوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4081

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِم قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَرَأَيْتَ أَحَدَنَا أَصَابَ صَيْدًا وَلَيْسَ مَعَهٗ سِكِّينٌ، أَيَذْبَحُ بِالمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا؟ قَالَ: "أَمْرِرِ الدَّمَ بِمَ شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللّٰهِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

عن عدي بن حاتم قال: قلت: يا رسول الله! أرأيت أحدنا أصاب صيدا وليس معه سكين، أيذبح بالمروة وشقة العصا؟ قال: "أمرر الدم بم شئت واذكر اسم الله". رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عدی ابن حاتم سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرمایئے کہ ہم میں سے کوئی شکار پائے اور اس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا پتھر سے یا لاٹھی کی پھاڑی سے ذبح کردے ۱؎تو فرمایا جس چیز سے چاہو خون بہادو ۲؎اورکا نام لے دو۔(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎مروہسفید پتھر کو کہتے ہیں اس لیے ایک پہاڑ مکہ کا نام بھی مروہ ہے"اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللہِ"پتھر سے مراد پتھر کا وہ ٹکڑا ہے جو دھار دار ہو،یوں ہی لاٹھی کے ٹکڑے سے مراد بانس کی دھاردار کھپچ ہے جس سے ذبح کیا جاسکتا ہے۔
۲
؎امربنا ہےامراءسے بمعنی گزارنا اور بہانا یہاں بمعنی بہانا ہے،بعض نسخوں میںامرر کے کسرہ سے ہے۔چونکہ خون بہہ کر اپنی جگہ سے گزرتا ہے اس لیے بہانے کو امراء کہہ دیتے ہیںبم شئتمیںماکا الف گرادیا گیا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4081