Main Icon

باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5464

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ: اطَّلَعَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ، فَقَالَ: "مَا تَذْكُرُونَ؟ " قَالُوا: نَذْكُرُ السَّاعَةَ، قَالَ: "إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْا قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ، فَذَكَرَ الدُّخَانَ،وَالدَّجَّالَ، وَالدَّابَّةَ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا،وَنُزُولَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَيَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ".وَفِي رِوَايَةٍ: "نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَى الْمَحْشَرِ". وَفِي رِوَايَةٍ فِي الْعَاشِرَةِ: "وَرِيح تُلْقِي النَّاسَ فِي الْبَحْر". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن حذيفة بن أسيد الغفاري قال: اطلع النبي -صلى الله عليه وسلم- علينا ونحن نتذاكر، فقال: "ما تذكرون؟ " قالوا: نذكر الساعة، قال: "إنها لن تقوم حتى تروا قبلها عشر آيات، فذكر الدخان،والدجال، والدابة، وطلوع الشمس من مغربها،ونزول عيسى ابن مريم، ويأجوج ومأجوج، وثلاثة خسوف: خسف بالمشرق، وخسف بالمغرب، وخسف بجزيرة العرب، وآخر ذلك نار تخرج من اليمن تطرد الناس إلى محشرهم".وفي رواية: "نار تخرج من قعر عدن تسوق الناس إلى المحشر". وفي رواية في العاشرة: "وريح تلقي الناس في البحر". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حذیفہ ابن اسید غفاری سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہم پر تشریف لائے جب کہ ہم کچھ تذکرے کر رہے تھے تو فرمایا کیا تذکرہ کرتے ہو، صحابہ نے عرض کیا کہ ہم قیامت کا تذکرہ کررہے ہیں، فرمایا قیامت ہرگز نہ آوے گی حتی کہ اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو پھر حضور نے دھواں۲؎دجال جانور۳؎سورج کا مغرب کی طرف سے نکلنا،عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا اور یا جوج و ماجوج۴؎اور تین دھنسنے ایک دھنسنا پورب میں دوسرا پچھم میں اور ایک دھسنا عرب کے جزیرہ میں۵؎اور ان سب کے آخر میں وہ آگ جو یمن سے نکلے گی ۶؎لوگوں کو ان کی قیامت گاہ کی طرف ہانک دے گی ۷؎اور ایک روایت میں ہے کہ وہ آگ جو عدن کے بیچ سے نکلے گی لوگوں کو محشر کی طرف ہانک دے گی ۸؎اور ایک روایت میں ہے دسویں علامت کے بارے میں ہے کہ وہ ہوا جو لوگوں کو دریا میں ڈال دے گی ۹؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،بیعت رضوان میں شریک ہوئے،آخر میں کوفہ قیام رہا۔۲؎حق یہ کہ اس دھوئیں سے مراد وہ دھواں نہیں جو ہجرت سے پہلے قریش کو قحط سالی میں سخت بھوک کی وجہ سے محسوس ہوا تھا بلکہ اس دھواں سے مراد قریب قیامت والا وہ دھواں ہے جو قریب قیامت مشرق و مغرب میں پھیل جاوے گا،جس سے مسلمانوں کو زکام سا محسوس ہوگا اور کفار دیوانہ ہو جائیں گے یہ دوران چالیس دن رہے گا۔۳؎یہ جانور مکہ معظمہ کے حرم کعبہ سے نمودار ہوگا۔صفا مروہ پہاڑوں کے درمیان سے یہ چوپایہ ہے ساٹھ گز قد،اس کے مختلف اعضاء بدن مختلف جانوروں کے سے ہوں گے،اس کے پاس عصاءموسوی،مہر سلیمانی ہوگی،ہرشخص کو پکڑ کر اس کی پیشانی پر مہر سلیمانی لگائے گا۔جس پر سفید نقش نمودار ہوں وہ مؤمن ہوگا،سیاہ نقش والا کافر،اس جانور کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے "اَخْرَجْنَا لَہُمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ تُکَلِّمُہُمْمرقات نے فرمایا کہ یہ جانور تین بار نکلے گا: امام مہدی کے زمانہ میں،پھر نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بعد،پھر آفتا ب کے مغرب سے نکلنے کے بعد ۔(مرقات)۴؎ان علامات کے ظہور کی ترتیب یہ ہے(۱)پہلے دھواں (۲)پھر دجال (۳)پھر عیسیٰ علیہ السلام کا نزول(۴)پھر یا جوج ما جوج کا خروج (۵)پھر یہ جانور(۶)پھر سورج کا پچھم سے نکلنا۔خیال رہے کہ امام مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ظاہر ہوجائیں گے،بعض لوگوں نے سمجھا ہے کہ آفتاب کا مغرب سے نکلنا پہلے ہے نزول عیسیٰ علیہ السلام بعد میں مگر درست نہیں کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں کفار کا ایمان قبول ہوگا اور طلوع آفتاب کے بعد ایمان قبول نہ ہوگا۔(مرقات)۵؎گزشتہ زمانوں میں بعض جگہ ز مینیں دھنسی ہیں مگر یہ دھنسنا قریب قیامت ہوں گے بڑے علاقہ میں اور بڑے خطرناک جیسے زلزلے عام طور پر آتے رہتے ہیں مگر زلزلہ قیامت خدا کی پناہ"اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیۡءٌ عَظِیۡمٌ" ۔(از مرقات)۶؎اس موقع پر دو آگ نکلیں گی: ایک یمن سے،دوسری حجاز سے،آخر میں یہ دونوں جمع ہوجائیں گی لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جن میں حجاز سے آگ نکلنے کا ذکر ہے۔خیال رہے کہ یہ آگ ان مذکورہ علامات کے بعد ہوگی ان علامات سے پہلے جن کے متصل صور کا نفخہ ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں آگ کو پہلی علامت فرمایا گیا ہے کہ یہ آگ ان علامات میں پہلی ہے۔۷؎قیامت زمین شام یا زمین فلسطین میں قائم ہوگی یہ آگ تمام کو وہاں پہنچادے گی،یہ قدرت الٰہی ہوگی کہ ساری مخلوق زمین شام میں جمع ہوجاوے گی۔۸؎عدن ملک یمن کا مشہور شہر ہے وہ اس کا دارالخلافہ ہے۔یہ عبارت پچھلی عبارت کی شرح ہے کہ وہاں یمن تھا یہاں عدن ہے۔۹؎یعنی اس روایت میں دسویں علامت بجائے آگ کے ہوا فرمائی گئی ہے مگر ہوسکتا ہے کہ اس آگ کے ساتھ آندھی بھی ہو،یہ آندھی کفار کو سمندر میں پھینک دے کہ کفار سمندر سے قیامت میں اٹھیں۔خیال رہے کہ وہ آگ مؤمنوں کے لیے عذاب نہیں بلکہ ڈراوا ہوگی جس سے مسلمان ملک شام میں پہنچ جاویں۔واﷲ و رسولہ اعلم!(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5464