- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5464
باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5464
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ: اطَّلَعَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ، فَقَالَ: "مَا تَذْكُرُونَ؟ " قَالُوا: نَذْكُرُ السَّاعَةَ، قَالَ: "إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْا قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ، فَذَكَرَ الدُّخَانَ،وَالدَّجَّالَ، وَالدَّابَّةَ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا،وَنُزُولَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، وَيَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ".وَفِي رِوَايَةٍ: "نَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ إِلَى الْمَحْشَرِ". وَفِي رِوَايَةٍ فِي الْعَاشِرَةِ: "وَرِيح تُلْقِي النَّاسَ فِي الْبَحْر". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عن حذيفة بن أسيد الغفاري قال: اطلع النبي -صلى الله عليه وسلم- علينا ونحن نتذاكر، فقال: "ما تذكرون؟ " قالوا: نذكر الساعة، قال: "إنها لن تقوم حتى تروا قبلها عشر آيات، فذكر الدخان،والدجال، والدابة، وطلوع الشمس من مغربها،ونزول عيسى ابن مريم، ويأجوج ومأجوج، وثلاثة خسوف: خسف بالمشرق، وخسف بالمغرب، وخسف بجزيرة العرب، وآخر ذلك نار تخرج من اليمن تطرد الناس إلى محشرهم".وفي رواية: "نار تخرج من قعر عدن تسوق الناس إلى المحشر". وفي رواية في العاشرة: "وريح تلقي الناس في البحر". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت حذیفہ ابن اسید غفاری سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہم پر تشریف لائے جب کہ ہم کچھ تذکرے کر رہے تھے تو فرمایا کیا تذکرہ کرتے ہو، صحابہ نے عرض کیا کہ ہم قیامت کا تذکرہ کررہے ہیں، فرمایا قیامت ہرگز نہ آوے گی حتی کہ اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو پھر حضور نے دھواں۲؎دجال جانور۳؎سورج کا مغرب کی طرف سے نکلنا،عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا اور یا جوج و ماجوج۴؎اور تین دھنسنے ایک دھنسنا پورب میں دوسرا پچھم میں اور ایک دھسنا عرب کے جزیرہ میں۵؎اور ان سب کے آخر میں وہ آگ جو یمن سے نکلے گی ۶؎لوگوں کو ان کی قیامت گاہ کی طرف ہانک دے گی ۷؎اور ایک روایت میں ہے کہ وہ آگ جو عدن کے بیچ سے نکلے گی لوگوں کو محشر کی طرف ہانک دے گی ۸؎اور ایک روایت میں ہے دسویں علامت کے بارے میں ہے کہ وہ ہوا جو لوگوں کو دریا میں ڈال دے گی ۹؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎آپ صحابی ہیں،بیعت رضوان میں شریک ہوئے،آخر میں کوفہ قیام رہا۔۲؎حق یہ کہ اس دھوئیں سے مراد وہ دھواں نہیں جو ہجرت سے پہلے قریش کو قحط سالی میں سخت بھوک کی وجہ سے محسوس ہوا تھا بلکہ اس دھواں سے مراد قریب قیامت والا وہ دھواں ہے جو قریب قیامت مشرق و مغرب میں پھیل جاوے گا،جس سے مسلمانوں کو زکام سا محسوس ہوگا اور کفار دیوانہ ہو جائیں گے یہ دوران چالیس دن رہے گا۔۳؎یہ جانور مکہ معظمہ کے حرم کعبہ سے نمودار ہوگا۔صفا مروہ پہاڑوں کے درمیان سے یہ چوپایہ ہے ساٹھ گز قد،اس کے مختلف اعضاء بدن مختلف جانوروں کے سے ہوں گے،اس کے پاس عصاءموسوی،مہر سلیمانی ہوگی،ہرشخص کو پکڑ کر اس کی پیشانی پر مہر سلیمانی لگائے گا۔جس پر سفید نقش نمودار ہوں وہ مؤمن ہوگا،سیاہ نقش والا کافر،اس جانور کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے "اَخْرَجْنَا لَہُمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ تُکَلِّمُہُمْ"۔مرقات نے فرمایا کہ یہ جانور تین بار نکلے گا: امام مہدی کے زمانہ میں،پھر نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بعد،پھر آفتا ب کے مغرب سے نکلنے کے بعد ۔(مرقات)۴؎ان علامات کے ظہور کی ترتیب یہ ہے(۱)پہلے دھواں (۲)پھر دجال (۳)پھر عیسیٰ علیہ السلام کا نزول(۴)پھر یا جوج ما جوج کا خروج (۵)پھر یہ جانور(۶)پھر سورج کا پچھم سے نکلنا۔خیال رہے کہ امام مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ظاہر ہوجائیں گے،بعض لوگوں نے سمجھا ہے کہ آفتاب کا مغرب سے نکلنا پہلے ہے نزول عیسیٰ علیہ السلام بعد میں مگر درست نہیں کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں کفار کا ایمان قبول ہوگا اور طلوع آفتاب کے بعد ایمان قبول نہ ہوگا۔(مرقات)۵؎گزشتہ زمانوں میں بعض جگہ ز مینیں دھنسی ہیں مگر یہ دھنسنا قریب قیامت ہوں گے بڑے علاقہ میں اور بڑے خطرناک جیسے زلزلے عام طور پر آتے رہتے ہیں مگر زلزلہ قیامت خدا کی پناہ"اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیۡءٌ عَظِیۡمٌ" ۔(از مرقات)۶؎اس موقع پر دو آگ نکلیں گی: ایک یمن سے،دوسری حجاز سے،آخر میں یہ دونوں جمع ہوجائیں گی لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جن میں حجاز سے آگ نکلنے کا ذکر ہے۔خیال رہے کہ یہ آگ ان مذکورہ علامات کے بعد ہوگی ان علامات سے پہلے جن کے متصل صور کا نفخہ ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں آگ کو پہلی علامت فرمایا گیا ہے کہ یہ آگ ان علامات میں پہلی ہے۔۷؎قیامت زمین شام یا زمین فلسطین میں قائم ہوگی یہ آگ تمام کو وہاں پہنچادے گی،یہ قدرت الٰہی ہوگی کہ ساری مخلوق زمین شام میں جمع ہوجاوے گی۔۸؎عدن ملک یمن کا مشہور شہر ہے وہ اس کا دارالخلافہ ہے۔یہ عبارت پچھلی عبارت کی شرح ہے کہ وہاں یمن تھا یہاں عدن ہے۔۹؎یعنی اس روایت میں دسویں علامت بجائے آگ کے ہوا فرمائی گئی ہے مگر ہوسکتا ہے کہ اس آگ کے ساتھ آندھی بھی ہو،یہ آندھی کفار کو سمندر میں پھینک دے کہ کفار سمندر سے قیامت میں اٹھیں۔خیال رہے کہ وہ آگ مؤمنوں کے لیے عذاب نہیں بلکہ ڈراوا ہوگی جس سے مسلمان ملک شام میں پہنچ جاویں۔واﷲ و رسولہ اعلم!(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5464