Main Icon

باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5484

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فِي حَدِيثِ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ: قَالَ: فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ تَجُرُّ شَعَرَهَا،قَالَ: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْقَصْرِ، فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا رَجُلٌ يَجُرُّ شَعَرَهُ مُسَلْسَلٌ فِي الأَغْلَالِ، يَنْزُو فِيمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّال. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد.

عن فاطمة بنت قيس في حديث تميم الداري: قال: فإذا أنا بامرأة تجر شعرها،قال: ما أنت؟ قالت: أنا الجساسة، اذهب إلى ذلك القصر، فأتيته فإذا رجل يجر شعره مسلسل في الأغلال، ينزو فيما بين السماء والأرض، فقلت: من أنت؟ قال: أنا الدجال. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت فاطمہ بنت قیس سے تمیم داری کی حدیث میں مروی ہے ۱∞؎فرماتی ہیں فرمایا کہ ناگاہ میں اس عورت پرگزرا جو اپنے بال گھسیٹ رہی تھی۲؎انہوں نے کہا تو کون ہے وہ بولی میں جاسوس ہوں اس محل کی طرف جاؤ ۳؎میں وہاں گیا تو ایک شخص تھا جو اپنے بال گھسیٹ رہا تھا قیدوں میں جکڑا ہوا تھا آسمان و زمین کے درمیان کود رہا تھا ۴؎میں نے کہا تو کون ہے وہ بولا میں دجال ہوں ۵؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تمیم داری کی وہ دراز حدیث جو بروایت مسلم فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے وہ گزر چکی۔ابوداؤد میں وہ ہی حدیث قدرے اختلاف سے مروی ہے مگر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرق صرف لفظی ہے مطلب ایک ہی ہے
۲
؎خیال رہے کہ ان دونوں حدیثوں میں پہلا اختلاف تو یہ ہے کہ وہاں مسلم کی روایت میںدابۃتھا،اور یہاں ابوداؤد کی روایت میںامرأۃیعنی عورت ہے،ان دونوں میں کئی طرح مطابقت کی جاسکتی ہے: ایک یہ کہ وہاںدابۃبمعنی جانور نہیں بلکہ بمعنی زمین پر چلنے والی ہے جس میں انسان بھی داخل ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ"لہذا وہاںدابۃبمعنی عورت تھا۔دوسرے یہ کہ دجال نے بہت سے جاسوس رکھے ہوئے تھے کوئی جانور کی شکل میں کوئی عورت کی شکل میں،تمیم داری کو دو جاسوس ملے ایک جانور،ایک عورت وہاں ایک کا ذکر تھا یہاں دوسری کاذکر ہے۔تیسرے یہ کہ جساسہ شیطانہ تھی کبھی جانور کی شکل میں نظر آئی کبھی عورت کی شکل میں جنات شکلیں بدل سکتے ہیں۔۳؎وہاں مسلم کی حدیث میںدیرتھا بمعنی کلیسہ یہاں قصر ہے مگر ان میں مخالفت نہیں وہ کلیسہ محل کی شکل میں تھا لہذا کلیسہ بھی کہا جاسکتا ہے محل بھی۔۴؎یعنی قید میں تھا مگر اچھلتا تڑپتا تھا اسے سکون و چین نہ تھا اچھلتا تھا بہت اونچا۔۵؎وہاں مسلم کی روایت میں سائل پوری جماعت کو فرمایا گیا تھا یہاں صرف تمیم داری کو کہ ارشاد ہوافقلتمگر ان دونوں میں تعارض نہیں۔جماعت کا کام ہر ایک کی طرف نسبت ہوسکتا ہے سب نے پوچھا تو تمیم داری نے بھی پوچھا یا تمیم دار نے پوچھا تو گویا سب نے ہی پوچھا بہرحال دونوں حدیثیں متفق ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5484