Main Icon

باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5485

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنِّي حَدَّثْتُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ لَا تَعْقِلُوا، إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ قَصِيرٌ، أَفْحَجُ، جَعْدٌ، أَعْوَرُ، مَطْمُوسُ الْعَيْنِ، لَيْسَتْ بِنَاتِئَةٍ وَلَا جَحْرَاءَ،فَإِنْ أُلْبِسَ عَلَيْكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد.

وعن عبادة بن الصامت عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "إني حدثتكم عن الدجال حتى خشيت أن لا تعقلوا، إن المسيح الدجال قصير، أفحج، جعد، أعور، مطموس العين، ليست بناتئة ولا جحراء،فإن ألبس عليكم فاعلموا أن ربكم ليس بأعور". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے وہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا میں نے تمہیں دجال کے متعلق خبریں دی حتی کہ مجھے خوف ہوا کہ تم نہ سمجھو ۱∞؎مسیح دجال پستہ قد ٹیڑھے پاؤں والا ۲؎مٹھے ہوئے بال ایک آنکھ کا سپاٹ ہے وہ آنکھ نہ تو ابھری ہوئی ہے اور نہ دھنسی ہوئی۳؎اگر تم پر اشتباہ ہو تو جان لو کہ تمہارا رب کانا نہیں۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہم نے بہت ہی مجلسوں میں دجال کے بہت عیوب بیان کیے ہیں ممکن ہے کہ تم کو وہ سب یاد نہ رہیں تم بہت سی باتیں بھول جاؤ اس لیے ہم اس کے متعلق چند فیصلہ کن باتیں بتاتے ہیں جنہیں تم بے تکلف یاد کرلو۔۲؎افحجبنا ہےفحجسے بمعنی ٹیڑھے قدم کہ جب کھڑا ہو تو اس کے پنجے بہت پھیلے ہوئے ہوں ایڑیاں قریب قریب ہوں پنڈلیاں پھیلی ہوں۔قصیربمعنی پستہ قد،ٹھنگنا۔جن روایات میں اسے عظیم کہا گیا ہے وہاں مراد موٹا ہے یعنی پستہ قد مگر بہت موٹا لہذا حدیث میں تعارض نہیں۔۳؎یعنی ایک آنکھ ابھری ہوئی دوسری سپاٹ لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جن میں ہے کہ اس کی ایک آنکھ بھری ہوئی ہوگی۔۴؎یعنی اگر تم کو اس کے کرشمے دیکھ کر دھوکا لگے کہ شاید یہ خدا ہو تو اولًا تو اس کا کھانا پینا سونا وغیرہ بندہ ہونے کی علامت ہیں،ساتھ ہی کانے ہونے کا عیب خاص بندہ ہونے کی علامت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5485