Main Icon

باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5465

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ سِتًّا: الدُّخَانَ، وَالدَّجَّالَ، وَدَابَّةَ الأَرْضِ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "بادروا بالأعمال ستا: الدخان، والدجال، ودابة الأرض، وطلوع الشمس من مغربها، وأمر العامة، وخويصة أحدكم". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ چھ علامات سے پہلے اعمال کرلو ۱∞؎دھواں، دجال،زمین کا جانور،سورج کا پچھم کی طرف سے نکلنا،عام فتنہ اور تم میں سے ہر ایک کا خاص فتنہ ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ ان چھ علامات کے ظہور کے وقت اعمال صالحہ کرنا بہت ہی مشکل ہوجاویں گے۔۲؎یعنی عام فتنوں سے بھی پہلے نیکیاں کرلو اور خاص فتنوں سے بھی پہلے کرلو۔خاص فتنے کیا ہیں،ایسے مشاغل بیماریاں جو اعمال سے روک دیں اور پھر موت تو سب سے بڑی آفت ہے جس پر تمام اعمال ختم ہوجاتے ہیںالا ماشاء الله!(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5465