Main Icon

باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5479

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَأْتِي الدَّجَّالُ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ، فَيَنْزِلُ بَعْضَ السِّبَاخِ الَّتِي تَلِي الْمَدِينَةَ،فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ رَجُلٌ -وَهُوَ خَيْرُ النَّاسِ أَوْ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ- فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- حَدِيثَهُ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ هَلْ تَشُكُّونَ فِي الأَمْرِ؟ فَيَقُولُونَ: لَا، فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ، فَيَقُولُ: وَاللَّهِ مَا كُنْتُ فِيكَ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الْيَوْمَ، فَيُرِيدُ الدَّجَّالُ أَنْ يَقْتُلَهُ فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يأتي الدجال وهو محرم عليه أن يدخل نقاب المدينة، فينزل بعض السباخ التي تلي المدينة،فيخرج إليه رجل -وهو خير الناس أو من خيار الناس- فيقول: أشهد أنك الدجال الذي حدثنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حديثه، فيقول الدجال: أرأيتم إن قتلت هذا ثم أحييته هل تشكون في الأمر؟ فيقولون: لا، فيقتله ثم يحييه، فيقول: والله ما كنت فيك أشد بصيرة مني اليوم، فيريد الدجال أن يقتله فلا يسلط عليه". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعیدخدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دجال آوے گا حالانکہ اس کو مدینہ کے راستوں میں داخلہ ناممکن ہوگا تو بعض کھاری زمینوں میں جو مدینہ سے متصل ہیں وہاں اترے گا ۱∞؎تو اس کی طرف ایک شخص نکلے گا جو لوگوں میں بہترین یا لوگوں میں سے بہترین ہوگا۲؎وہ کہے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہ ہی دجال ہے جس کی خبر ہم کو رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے دی تھی تو دجال کہے گا کہ بتاؤ تو اگر میں اسے قتل کردوں پھر زندہ کردوں تو کیا تم اس میں کچھ شک کرو گے۳؎وہ لوگ کہیں گے کہ نہیں تو وہ اس شخص کو قتل کرے گا پھر زندہ کرے گا تب وہ کہے گا والله کہ اب سے پہلے تیرے متعلق زیادہ سمجھ بوجھ والا نہ تھا ۴؎پھر دجال اسے قتل کرنا چاہے گا تو اس پر قابو نہ دیا جاوے گا۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎انقابجمع ہےنقیبکی،معنی پہاڑی راستہ جو پہاڑ میں جائے،اب ہر راستہ کو نقب کہتے ہیں۔یہاں اسی معنی میں ہے یعنی باہر سے جتنے راستے مدینہ منورہ میں آتے ہیں ان سب پر کنارہ مدینہ منورہ پر فرشتے ہوں گے جو دجال کو مدینہ مطہرہ میں داخل ہونے سے روکیں گے وہ ہی یہاں مراد ہے وہ مردود مدینہ منورہ کے باہر جو زمین شورہ ہے وہاں قیام کرے گا۔۲؎عام شارحین نے فرمایا کہ وہ خضر علیہ السلام ہوں گے جو دجال کا مقابلہ کرنے نکلیں گے،وہ زندہ ہیں اور تاقیامت زندہ ر ہیں گے۔اس زمانہ میں مدینہ منورہ میں ہوں گے آپ دجال کے ہاتھوں دکھ اٹھائیں گے مگر اسے بے نقاب فرمادیں گے،اس کی جھوٹی الوہیت کی مٹی انہیں کے ہاتھوں پلید ہوگی،اس وقت آپ اسلام کے مبلغ اعظم ہوں گے اور سب کو نظر آئیں گے سب انہیں پہچانیں گے ان سے گفتگو کریں گے۔۳؎دجال اپنے ماننے والوں سے یہ خطاب کرے گا خود ان بزرگ سے یہ خطاب نہ کرے گا کہ وہ جانتا ہے کہ یہ بزرگ تو مجھے مانیں گے نہیں،اسے خطرہ تھا کہ شاید ان بزرگ کی تقریر سے میرے ماننے والوں کے دلوں میں میری طرف سے کچھ شک ہوگیا اس لیے ان سے یہ کہے گا۔اس فرمان عالی کے اور کئی مطلب کیے گئے ہیں مگر یہ مطلب قوی ہے کہ اس میں خطاب اس کے معتقد یہودیوں سے ہے نہ کہ مؤمنین سے۔۴؎یعنی دجال کے کافر ہونے کا جتنا یقین مجھے اب ہوگیا اتنا پہلے نہ تھا کہ پہلے مجھے تیرے متعلق عین الیقین تھا دیکھ کر اب حق الیقین ہوگیا آزماکر۔۵؎یعنی اب جو ان بزرگ کو ذبح کرنے جائے گا تو نہ کرسکے گا کیونکہ انکی گردن میں تانبہ یا پیتل ہوجائے گا جو چھری سے کٹ نہ سکے گا اور آج اس وقت سے اس کی یہ شعبدہ بازیاں ختم ہوجائیں گی اس کا زوال شروع ہوجائے گا،پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں اس کی لاش گلیوں میں پھرے گی جسے کتے کھاتے ہوں گے الله سچا اس کے نبی سچے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5479