Main Icon

باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5493

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَخْرُجُ الدَّجَّالُ عَلَى حِمَارٍ أَقْمَرَ مَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ سَبْعُونَ بَاعًا". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ".

وعن أبي هريرة عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "يخرج الدجال على حمار أقمر ما بين أذنيه سبعون باعا". رواه البيهقي في "كتاب البعث والنشور".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ دجال ایک سفید گدھے پرنکلے گا ۱∞؎جس کے پاس دو کانوں کے درمیان ستر باع کا فاصلہ ہوگا ۲؎(بیہقی کتاب البعث والنشور)

شرح حدیث

۱∞؎اقمرکے معنی ہیں تیز سفید،بعض شارحین نے فرمایا کہ قمرہ سفیدی مائل بہ سبزی یا سرخی مائل بہ سیاہی قاموس میں یہ ہی معنی کیے گئے مگر پہلے معنی قوی ہیں کہ یہ قمر بمعنی چاند سے بنا ہے یعنی چاند جیسا چٹا سفید چمک دار،غرضکہ دجال کے گدھے کا رنگ تیز سفید ہوگا۔۲؎دونوں ہاتھ لمبائی میں پھیلاؤ تو ایک ہاتھ کی انگلیوں سے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں تک باع ہے یعنی اس گدھے کی قامت کا یہ عالم ہے کہ اس کا چہرہ ستر باع قریبًا سوگز ہے حدیث بالکل اپنے ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔ہم نے جنگلی بھینسے کا کلہ قریبًا پانچ ہاتھ کا دیکھا ہے،علی پور شریف میں مچھلی کے ایک کانٹے کا پورا شہتیر ہے ہم نے خود دیکھا ہے،رب تعالٰی ہر چیز پر قادر ہے،لشکر صحابہ نے ایک مچھلی کا گوشت پندرہ دن کھایا،اس کے آنکھ کے حلقہ میں ایک آدمی کھڑا ہوگیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5493