Main Icon

باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5468

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ: "أَتَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ؟ " قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَسْتَأْذِنُ فَيُؤْذَنُ لَهَا، وَيُوشِكُ أَنْ تَسْجُدَ وَلَا تُقْبَلُ مِنْهَا، وَتَسْتَأْذِنُ فَلَا يُؤْذَنُ لَهَا، وَيُقَالُ لَهَا: ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا} " قَالَ: "مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي ذر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حين غربت الشمس: "أتدري أين تذهب هذه؟ " قلت: الله ورسوله أعلم، قال: "فإنها تذهب حتى تسجد تحت العرش، فتستأذن فيؤذن لها، ويوشك أن تسجد ولا تقبل منها، وتستأذن فلا يؤذن لها، ويقال لها: ارجعي من حيث جئت، فتطلع من مغربها، فذلك قوله تعالى: {والشمس تجري لمستقر لها} " قال: "مستقرها تحت العرش". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے جب کہ سورج ڈوباکہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ جاتا کہاں ہے میں نے عرض کیا الله اور رسول ہی خوب جانیں،فرمایا یہ جاتا ہے حتی کہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے ۱∞؎پھر اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت دے دی جاتی ہے۲؎اور قریب ہے کہ سجدہ کرے اور اس کا سجدہ قبول نہ ہو اور اجازت مانگے تو اسے۳؎اجازت نہ دی جاوے اور اس سے کہا جاوے کہ جہاں آیا ہے وہاں ہی لوٹ جا تو اپنے مغرب سے طلوع ہو۴؎یہ رب تعالٰی کا فرمان ہے کہ سورج اپنے ٹھکانے پر چلتا ہے فرمایا اس کا ٹھکانہ عرش کے نیچے ہے ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ سورج چوتھے آسمان پر ہے اور عرش سارے آسمانوں کو گھیرے ہوئے ہے۔سورج کا دورہ ہر وقت ہی ختم ہوتا ہے اور ہر وقت کسی نہ کسی جگہ غروب ہوتا ہے لہذا مطلب یہ ہے کہ ہر وقت سورج سجدے میں رہتا ہے اور آگے بڑھنے دوسرے ملک میں طلوع ہونے کی اجازت مانگتا ہے مگر ہر آن کے سجدہ کا تعلق اس ملک سے ہوتا ہے جہاں وہ غریب ہوا لہذا اس حدیث پر موجود فلاسفر اعتراض نہیں کرسکتے سورج کا سجدہ وہ جو اس کے لائق ہے،قرآن کریم فرماتا ہے کہ درخت اور گھاس بیل سجدہ کرتی ہیں"وَ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدَانِخیال رہے کہ وہ جو قرآن مجید میں ہے کہ ذوالقرنین نے سورج کو کیچڑ کے چشمے میں ڈوبتے ہوئے دیکھا وہاں محسوس ہونے کا ذکر ہے نہ کہ واقعہ کا،ہاں سمندر میں برف کی دلدل تاحد نظر تھی وہاں معلوم ایسا ہوتا تھا جیسے سورج اس دلدل میں ڈوب رہا ہے لہذا وہ آیت اور یہ آیت متعارض نہیں۔۲؎یعنی ہر وقت آگے بڑھنے کی اجازت مانگتا رہتا ہے اور ملتی رہتی ہے وہ آگے بڑھتا اور ہر ملک میں طلوع ہوتا رہتا ہے اسے واپس لوٹنے کا حکم نہیں ملتا۔۳؎یعنی قریب قیامت سورج کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں ملے گی بلکہ پورا دورہ الٹا چکر لگانے کا حکم ہوگا تو ہر جگہ مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا،اس ایک چکر میں ایسا ہوگا پھر مطابق عادت مشرق سے طلوع ہونے لگے گا۔۴؎یہ حکم ہر جگہ کے لیے ہوگا اور سورج ساری دنیا میں پچھم کی طرف سے طلوع ہوگا۔۵؎اس آیت کریمہ کی بہت تفسیریں کی گئی ہیں: ایک یہ کہ قیامت کا دن سورج کا مستقر ہے قیامت تک نکلتا ڈوبتا رہے گا اور قیامت قائم ہونے پر یہ نظام ختم ہوجاوے گا۔دوسرے یہ کہ گرمی سردی میں سورج کا مستقر الگ الگ ہیں کہ ایک ٹھکانہ پر پہنچ کر لوٹ پڑتا ہے پھر آگے نہیں بڑھتا۔تیسری تفسیر وہ ہے جو حضور انور نے خود فرمائی جو یہاں مذکور ہے کہ سورج اپنے ٹھکانہ یعنی عرش کے نیچے ہی چکر لگارہا ہے اس سے اوپر نیچے نہیں ہوسکتا۔یہ تیسرے آسمان پر اترے نہ پانچویں پر چڑھے چونکہ یہ تفسیر خود صاحب قرآن صلی اللہ علیہ و سلم کی ہے لہذا قوی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5468