Main Icon

باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5466

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْروٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّ أَوَّلَ الآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ عَلَى النَّاسِ ضُحًى، وَأَيُّهُمَا مَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالأُخْرَى عَلَى أَثَرِهَا قَرِيبًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عبد الله بن عمرو قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "إن أول الآيات خروجا طلوع الشمس من مغربها، وخروج الدابة على الناس ضحى، وأيهما ما كانت قبل صاحبتها فالأخرى على أثرها قريبا". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمرو سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ پہلی نشانی جو نکلے گی وہ سورج کا پچھم کی طرف سے نکلنا ہےاور جانور کا لوگوں کے سامنے نکلنا ہے ۱∞؎دوپہر کے وقت ۲؎ان دونوں میں سے جو بھی اپنے صاحب سے پہلے ہو تو دوسری اس کے قریب ہی پیچھے ہوگی ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ علامتیں ان علامات سے پہلے ہیں جو ان کے بعد آنے والی ہیں۔اولیت سے مراد اولیت اضافی ہے نہ کہ اولیت حقیقی۔ان تینوں میں دھواں اور دجال پہلے ہیں اور آفتاب کا مغرب سے نکلنا ان دونوں کے بعد۔۲؎یعنی اس عجیب الخلقت جانور کو ظاہر ہونا دوپہر کے وقت ہوگاکہ اس وقت مکہ معظمہ میں دوپہر ہوگی اگرچہ دوسرے ملکوں میں سویرا یا شام یا رات ہو،یا یہ مطلب ہے کہ وہ جانور جہاں بھی پہنچے گا دوپہر کو پہنچے گا کہ اس وقت عام طورپر لوگ باہر ہوتے ہیں،نیز اس وقت جو چیز دیکھی جاتی ہے وہ یقینی ہوتی ہے۔۳؎اس حدیث میں ابہام ہے،صراحۃً بیان نہ فرمایا گیا کہ ان میں سے پہلے کونسی علامات ہوگی اور بعد میں کون سی،دوسری احادیث میں اس کی تفصیل ہے جو ابھی کچھ پہلے عرض کی گئی،ہاں یہاں اتنا ہے کہ یہ علامات آپس میں قریب قریب ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5466