Main Icon

باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5489

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَمْكُثُ الدَّجَّالُ فِي الأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، السَّنَةُ كَالشَّهْرِ،وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ، وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ،وَالْيَوْمُ كَاضْطِرَامِ السَّعَفَةِ فِي النَّارِ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن أسماء بنت يزيد بن السكن قالت: قال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "يمكث الدجال في الأرض أربعين سنة، السنة كالشهر،والشهر كالجمعة، والجمعة كاليوم،واليوم كاضطرام السعفة في النار". رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید ابن سکن سے ۱∞؎فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دجال زمین میں چالیس سال رہے گا۲؎ایک سال ایک مہینہ کی طرح ہوگا اور مہینہ ہفتہ کی طرح اور ہفتہ ایک دن کی طرح اور دن آگ میں سوکھے پتے جلنے کی طرح ۳؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور صحابیہ انصاریہ ہیں،بڑی عالمہ عاقلہ عابدہ زاہدہ تھیں۔۲؎گزشتہ احادیث میں ارشاد تھا کہ چالیس دن رہے گا یا تو یہ اختلاف احساس کا ہے کہ بعض کو وہ زمانہ چالیس سال کا محسوس ہوگا مگر سال بھی ایسے جو یہاں مذکور ہیں اور بعض کو چالیس دن محسوس ہوگا ۔(مرقات)یا دجال کا زمین پر رہنا چالیس سال کا ہوگا مگر اس کا زور آخر ی چالیس دن ہوگا لہذا دونوں حدیثیں درست ہیں ان میں تعارض نہیں۔(اشعہ)۳؎شعفجمعشعفۃکی،شعفۃکجھور کی سوکھی شاخوں سوکھے پتوں کو کہتے ہیں یعنی اگر سوکھے پتوں سوکھی شاخوں میں آگ لگادو تو فورًا بھڑک اٹھتے ہیں اور جلدی راکھ بن کر بجھ جاتے ہیں ایک دن ایسا گزرے گا اس کی شرح گزشتہ احادیث میں گزر گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5489