Main Icon

باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5477

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ شَرِيكٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنَ الدَّجَّالِ حَتَّى يَلْحَقُوا بِالْجِبَالِ"، قَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: "هُمْ قَلِيلٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أم شريك قالت: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ليفرن الناس من الدجال حتى يلحقوا بالجبال"، قالت أم شريك: قلت: يا رسول الله فأين العرب يومئذ؟ قال: "هم قليل". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام شریک سے ۱∞؎فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگ دجال سے بھاگیں گے حتی کہ پہاڑوں میں جا پہنچیں گے۲؎ام شریک فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول الله تو اس دن عرب کہاں ہوں گے فرمایا وہ تھورے ہوں گے۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ام شریک دو ہیں: ایک ام شریک انصاریہ صحابیہ،دوسری ام شریک قرشیہ عامریہ،یہاں ام شریک قرشیہ مراد ہیں اور جن ام شریک کے پاس فاطمہ بنت قیس کو عدت گزارنے کا حکم دیا گیا تھا وہ ام شریک انصاریہ تھیں۔(اشعہ)یعنی احتیاطًا مسلمان اپنا دین بچانے کے لیے بستیوں بلکہ جنگلوں میں نہ ٹھہریں گے کیونکہ اس زمانہ میں کوئی جگہ اس کے شر سے محفوظ نہ ہوگی،حضور صلی اللہ علیہ و سلم ان لوگوں کی تعریف فرماتے ہوئے یہ فرمارہے ہیں۔معلوم ہوا کہ فتنہ کے زمانہ میں بستیاں چھوڑ کر گوشہ نشین ہوجانا اچھا ہے کہ اس میں دین کی بڑی حفاظت ہے۔۳؎جناب ام شریک نے پوچھا کہ عرب تو بڑے بہادر ہیں یہ لوگ دجال پر جہاد کیوں نہ کریں گے،فرمایا کہ اس وقت عرب اتنے تھوڑے ہوں گے کہ جہاد کرنے پر قادر نہ ہوں گے۔معلوم ہوا کہ جہاد کے لیے قدرت شرط ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5477