- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5483
باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5483
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "رَأَيْتُنِي اللَّيْلَةَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، لَهُ لِمَّةٌ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ مِنَ اللِّمَمِ، قَدْ رجَّلَها فَهِيَ تَقْطُرُ مَاءً، مُتَّكِئًا عَلَى عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَسَأَلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ" قَالَ: "ثُمَّ إِذَا أَنَا بَرُجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ كَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ مِنَ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ فِي الدَّجَّالِ: "رَجُلٌ أَحْمَرُ، جَسِيمٌ، جَعْدُ الرَّأْسِ،أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى، أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ"، وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا" فِي (بَابِ الْمَلَاحِم) ، وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِي النَّاس فِي (بَاب قصَّة ابْن الصياد) إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.
وعن عبد الله بن عمر أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "رأيتني الليلة عند الكعبة، فرأيت رجلا آدم كأحسن ما أنت راء من أدم الرجال، له لمة كأحسن ما أنت راء من اللمم، قد رجلها فهي تقطر ماء، متكئا على عواتق رجلين يطوف بالبيت، فسألت: من هذا؟ فقالوا: هذا المسيح ابن مريم" قال: "ثم إذا أنا برجل جعد قطط أعور العين اليمنى، كأن عينه عنبة طافية كأشبه من رأيت من الناس بابن قطن، واضعا يديه على منكبي رجلين يطوف بالبيت، فسألت من هذا؟ فقالوا: هذا المسيح الدجال". متفق عليه.
وفي رواية: قال في الدجال: "رجل أحمر، جسيم، جعد الرأس،أعور عين اليمنى، أقرب الناس به شبها ابن قطن"، وذكر حديث أبي هريرة: "لا تقوم الساعة حتى تطلع الشمس من مغربها" في (باب الملاحم) ، وسنذكر حديث ابن عمر: قام رسول الله -صلى الله عليه وسلم- في الناس في (باب قصة ابن الصياد) إن شاء الله تعالى.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبد الله ابن عمر سے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے آج رات اپنے کو کعبہ کے پاس دیکھا ۱∞؎تو میں نے ایک شخص کو دیکھا گندمی رنگ ان سب سے اچھا جو تم نے گندمی رنگ کے لوگ دیکھے ان پٹھے والے بال میں تمام پٹھے والوں سے اچھے جو تم نے دیکھے ہوں اس میں کنگھی کی ہوئی ہے ان سے پانی ٹپک رہا ہے۲؎دو شخصوں کے کندھوں پر ٹیک لگائے ہیں بیت الله کا طواف کررہے ہیں،میں نے پوچھا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا یہ مسیح ابن مریم ہیں۳؎فرمایا میں پھر ایک شخص پر تھا بال چھلے والے۴؎داہنی آنکھ کا کانا گویا اس کی آنکھ ابھرا ہوا انگور ہے جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سے سب سے زیادہ مشابہہ ابن قطن سے تھا ۵؎اپنے دونوں ہاتھ دو شخصوں کے کندھوں پر رکھے بیت الله کا طواف کررہا تھا ۶؎میں نے پوچھا یہ کون ہے لوگوں نے کہا یہ مسیح دجال ہے ۷؎(مسلم،بخاری)اور ایک روایت میں ہے کہ حضور نے دجال کے بارے میں فرمایا کہ وہ سرخ رنگ موٹے بال داہنی آنکھ کانی والا آدمی ہے ۸؎لوگوں میں اس سے زیادہ مشابہہ ابن قطن ہے اور ابوہریرہ کی حدیثلا تقوم الساعۃ حتی تطلع الشمس من مغربہاالخباب الملاحممیں ذکر کردی گئی اور ہم حضرت ابن عمر کی حدیثقام رسول الله صلی الله علیہ و سلم فی الناسابن صیاد کے قصہ میںان شاء اللهذکر کریں گے ۹؎
شرح حدیث
۱∞؎یا تو خواب میں دیکھا یا کشف میں۔(مرقات)بہرحال یہ دیکھنا ہے بالکل برحق کیونکہ نبی کا کشف بھی وحی ہے اور خواب بھی وحی۔۲؎یہ پانی وضو کا ہے یا غسل کایا رحمت الٰہی کا آپ باوضو طواف کررہے تھے۔۳؎اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر آیا کرتے ہیں مگر پردہ غیب میں رہ کر اور یہ کہ آپ حج و عمرہ بھی ادا کرتے ہیں مگر لوگوں کی نگاہ سے غائب اور یہ کہ حضور کی نگاہیں پوشیدہ چیزوں کو دیکھتی ہیں بلکہ حضرات انبیاءکرام بعد وفات روئے زمین کی سیرکرتے ہیں۔موسیٰ علیہ السلام نے حضور انورکے ساتھ حج کیا حجۃ الوداع بعد وفات عالم کی سیرکرنا مشکل نہیں۔یہ دونو ں آدمی جن کے کندھوں پر آپ ہاتھ رکھے ہوئے طواف کررہے ہیں وہ حضرت خضر ہیں اور حضرت امام مہدی کی روح،یہ دونوں حضرات جناب مسیح کی مدد آپ کی خدمت کے لیے آپ کے ساتھ ہیں۔(مرقات)اور ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں مرد فرشتے ہوں شکل انسانی میں جو آپ کی اس خدمت کے لیے مقرر کیے گئے ہوں۔۴؎جعدکے معنی ہیں گھونگھر والے بال یعنی قدرے خم دار،قططکے معنی ہیں بہت ہی اٹھے ہوئے چھلے کی طرح گول،جعودہ حسن ہے مگر چھلے والے بال بدصورتی۔۵؎یعنی دجال عبدالعزیٰ ابن قطن یہودی کے ہم شکل ہے جسے تم نے دیکھا ہے اگر دجال کو دیکھنا ہو تو اسے دیکھ لو۔(اشعہ،مرقات)۶؎یہ شخص وہ فرشتے تھے جو دجال کی قید میں نگرانی کرتے ہیں وہ اسے طواف کرانے ایسے لائیں ہیں جیسے جیل کی پولیس ملزم قید ی کو کبھی حاکم کی کچہری وغیر ہ میں اپنی نگرانی میں پیش کرتی ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ابھی دجال کافر نہیں ہوا جب اس کا خروج ہوگا تب کافر ہوگا۔دوسرے یہ کہ ابھی اس کا داخلہ مکہ معظمہ میں ممنوع نہیں جب اس کا خروج ہوگا تب وہ حرمین شریفین میں داخل نہ ہوسکے گا۔تیسرے یہ کہ دجال ابھی قید میں ہے مگر پھر بھی فرشتوں کے پہرے میں کعبہ وغیرہ میں پہنچتا ہے۔چوتھے یہ کہ حضور نے دجال کو دیکھا ہے اسے پہچانتے ہیں کیونکہ نبی کی خواب وحی ہوتی ہے۔یہاں اشعہ نے فرمایا کہ دجال کا یہ طواف جو حضور انور نے خواب میں دیکھا وہ اس مردود کا مکہ معظمہ کے اردگرد گھومنا ہے جو وہ قریب قیامت چکر لگائے گا لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اور عیسیٰ علیہ ا لسلام کا طواف یہ مکہ معظمہ میں طواف کرکے دجال کے پیچھے گھومنا ہے اسے قتل کرنے کے لیے یہ خواب مثال ہے۔۷؎حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسیح بمعنی ماسح یعنی چھوکر بیماروں کو شفا دینے والے،دجال مسیح بمعنی ممسوح یعنی ایک آنکھ پونچھی ہوئی صاف اور بھی بہت فرق ہیں۔۸؎یعنی دجال انسان ہے،مرد ہے،رنگ کا سرخ،بدن کا موٹا،بالوں کا چھلے دار،آنکھ کا کانا،اس وقت اس کی داہنی آنکھ کانی ہے،خروج کے وقت کبھی داہنی کانی ہوگی کبھی بائیں جیساکہ پہلے گزرچکا ہے۔و الله ورسولہ اعلم!۹؎یعنی یہ دونوں حدیثیں مصابیح میں اسی جگہ تھیں مگر ہم نے مناسبت کا لحاظ کرتے ہوئے پہلی حدیث توباب الملاحممیں ذکر کردی اور دوسری حدیثان شاءاﷲابن صیاد کے باب میں بیان کریں گے کہ وہ حدیثیں انہیں بابوں کے مناسب ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5483