Main Icon

باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5471

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الأَعْوَرَ الْكَذَّابَ، أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبُّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ: ك ف ر". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أنس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما من نبي إلا قد أنذر أمته الأعور الكذاب، ألا إنه أعور وإن ربكم ليس بأعور، مكتوب بين عينيه: ك ف ر". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کوئی نبی ایسا نہیں جنہوں نے اپنی امت کو کانے جھوٹے سے ڈرایا نہ ہو ۱∞؎آگاہ رہو کہ وہ کانا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں اس کی دو آنکھوں کے نیچے لکھا ہے ک،ف،ر۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حق یہ ہے کہ یہاں دجال سے مراد وہ ہی دجال ہے جو قریب قیامت نکلے گا اگرچہ ان انبیاءکرام کو خبر تھی کہ ہماری امتیں اسے نہ پائیں گی،پھربھی اس سے ڈرانا اہتمام ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ بڑی ہی ہیبت ناک چیز ہے اس سے پناہ مانگو یہ پناہ مانگنا بھی عبادت ہے۔دیکھو جن صحابہ کو حدیث وقرآن نے انکے جنتی ہونے کی بشارت دے دی وہ بھی دوزخ سے پناہ مانگتے رہے کیونکہ یہ عمل عبادت ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ دجال کے نکلنے کا وقت معین نہیں مگر یہ قوی نہیں کیونکہ اس کے قاتل عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور ان کا نزول قریب قیامت ہی ہے۔۲؎یعنی تم اس کے بندہ ہونے اور کافر ہونے اور شرارتی ہونے میں شک نہ کرنا یہ دونوں علامتیں اس کے کافر اور بندہ ہونے کی ہیں۔اپنی آنکھ کو درست نہ کرسکنا علامت بندگی ہے اور ک،ف،ر اس کے کفر کی علامت ہے۔یہاں مرقات نے لکھا کہ مادر زاد کانا شرارتی ہوتا ہے۔خیال رہے کہ یہ حروف ہر پڑھا بے پڑھا آدمی پڑھے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5471