Main Icon

باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5467

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ {لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا} طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَالدَّجَّالُ، وَدَابَّةُ الأَرْضِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ثلاث إذا خرجن {لا ينفع نفسا إيمانها لم تكن آمنت من قبل أو كسبت في إيمانها خيرا} طلوع الشمس من مغربها، والدجال، ودابة الأرض". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تین چیزیں جب نمودار ہوں گی تو کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لائی تھی ۱∞؎یا اپنے ایمان میں بھلائی نہ کمائی تھی سورج کا اپنے پچھم سے نکلنا۲؎اور دجال اور زمین کا جانور ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎چونکہ ان علامات کے ظہور پر قیامت کا سب کو یقین ہوجاوے گا اس لیے اب قیامت غیب نہ رہے گی بلکہ شہادت بن جاوے گی اور ایمان بالغیب معتبر ہے اس لیے اب نہ ایمان معتبر ہوگا نہ اس وقت کی توبہ قبول ہوگی۔خیال رہے کہ توبہ کا دروازہ سورج کے مغرب سے نکلنے پر بند ہوگا۔یہاںثلاثفرمانا ایسا ہے جیسے قرآن کریم فرماتاہے:"یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُ"کہ موتی مونگے کھاری سمندر سے نکلتے ہیں نہ میٹھے سے مگر فرمایا دونوں سے نکلتے ہیں،ایسے ہی توبہ قبول نہ ہونے کو تغلیبًا ان تینوں علامتوں کی طرف نسبت فرمایا گیا۔۲؎سورج کا یہ طلوع دجال اور دابۃ کے بعد ہے مگر چونکہ دروازہ توبہ بند اسی پر ہوگا اس لیے اس کا ذکر پہلے فرمایا۔(مرقات)۳؎دجال ا ور دابہ پہلے ہیں طلوع بعد میں،دجال کے نکلنے پر توبہ کا دروازہ بند نہ ہوگا۔عیسیٰ علیہ السلام دجال کے قتل کے بعد دنیا بھر کے کفار کو مسلمان کریں گے،اس وقت جزیہ کا مسئلہ ختم ہوجاوے گا اسلام یا قتل ہوگا جیساکہ دوسری احادیث میں ہے کہ اگر اس وقت ایمان و توبہ قبول نہ ہوں تو مسلمان کرنے کے کیا معنی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5467