- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3926
باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3926
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلٰى قَيْصَرَ يَدْعُوْهُ إِلَى الإِسْلَامِ، وَبَعَثَ بِكِتَابِهٖ إِلَيْهِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ، وَأَمَرَهٗ أَنْ يَدْفَعَهٗ إِلٰى عَظِيْمِ بُصْرٰى لِيَدْفَعَهٗ إِلٰى قَيْصَرَ فَإِذَا فِيهِ: "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ إلٰى هِرَقْلَ عَظِيْمِ الرُّوْم،سَلَامٌ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى، أَمَّا بَعْدُ! فَإِنِّيْ أَدْعُوْكَ بِدَاعِيَةِ الإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللّٰهُ أَجَرَكَ مَرَّتَيْنِ، وَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمُ الأَرِيْسِيِّيْنَ، وَ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِأَنَّا مُسْلِمُوْنَ ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمِ قَالَ: "مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُوْلِ اللّٰهِ" وَقَالَ: "إِثْمُ الْيَرِيْسِيِّينَ" وَقَالَ: "بِدِعَايَةِ الإِسْلَام".
عن ابن عباس: أن النبي صلى الله عليه وسلم كتب إلى قيصر يدعوه إلى الإسلام، وبعث بكتابه إليه دحية الكلبي، وأمره أن يدفعه إلى عظيم بصرى ليدفعه إلى قيصر فإذا فيه: "بسم الله الرحمن الرحيم من محمد عبد الله ورسوله إلى هرقل عظيم الروم،سلام على من اتبع الهدى، أما بعد! فإني أدعوك بداعية الإسلام أسلم تسلم، وأسلم يؤتك الله أجرك مرتين، وإن توليت فعليك إثم الأريسيين، و يا أهل الكتاب تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم ألا نعبد إلا الله ولا نشرك به شيئا ولا يتخذ بعضنا بعضا أربابا من دون الله فإن تولوا فقولوا اشهدوا بأنا مسلمون ". متفق عليه وفي رواية لمسلم قال: "من محمد رسول الله" وقال: "إثم اليريسيين" وقال: "بدعاية الإسلام".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عباس کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قیصر کو فرمان لکھا اسے دعوت اسلام دیتے ہوئے ۱؎اور دحیہ کلبی کو اپنا خط دے کر اس کی طرف بھیجا ۲؎اور انہیں حکم دیا کہ یہ خط بصریٰ کے حاکم کو دے دیں۳؎تاکہ وہ قیصر کو پہنچادیں۴؎تو اس میں یہ تھا شروع کرتا ہوںﷲکے نام سے جو مہربان رحم والا ہے ۵؎یہ خطﷲکے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے سلطان روم ہرقل کے طرف ہے ۶؎اس پر سلامتی ہو جو ہدایت کی اتباع کرے ۷؎اس کے بعد میں تم کو دعوت اسلام سے بلاتا ہوں ۸؎اسلام قبول کرلو سلامت رہو گے اللہ تم کو ڈبل ثواب دےگا ۹؎اور اگر تم نے منہ پھیرا تو تم پر تمام رعایا کا گناہ ہے۱۰؎اور اے اہل کتاب ایسی بات کی طرف آؤ ہمارے تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہمﷲکے سواءکسی کو نہ پوجیں اورکسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور ہمارے بعض بعض کوﷲکے مقابل رب نہ بنالیں۱۱؎پھر اگر وہ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ گواہ رہو ہم مسلمان ہیں۱۲؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یوں فرمایا کہ یہ فرمان محمد رسول اللہ کی طرف سے ہے اور فرمایا رعایا کا گناہ اور فرمایا اسلام کی دعوت ۱۳؎
شرح حدیث
۱∞؎بادشاہ روم کا لقب اس زمانہ میں قیصر تھا اور بادشاہ فارس کا لقب کسریٰ اوربادشاہ حبشہ کا لقب نجاشی،شاہ ترک کا لقب خاقان ،شاہ قبط کا لقب فرعون، شاہ مصر کا لقب عزیز اور شاہ حمیر کا لقب تبع،شاہ ہند کا لقب سلطان ہوتا تھا۔(نووی،اشعہ،مرقات)حضور انور نے یہ فرمان نامے حضرت زید ابن ثابت سےلکھوائے تھے خود ان پر مہر کی تھی ان فرمانوں کے فوٹو چھپے ہوئے ہیں اور مع ترجمے کے شائع ہوئے ہیں،اس قیصر کا نام ہرقل تھا۔
۲؎دحیہ دال کے کسرہ ح کے سکون اور ی کے فتحہ سے آپ دحیہ ابن خلیفہ ہیں،قبیلہ بنی تغلب سے ہیں،احد اور بعد کے غزوات میں شامل رہے،بہت خوبصورت تھے،اکثر جبرائیل امین آپ کی شکل میں آتے تھے،حضرت دحیہ آخر عمر میں حضرت امیر معاویہ کے پاس شام میں رہے یہ فرمان عالی ۶ھ ∞ میں روانہ ہوئے۔
۳؎خیال رہے کہ بصریٰ صوبہ خوران کا ایک شہر ہے دمشق اور بعلبک کے درمیان یہ صوبہ روم کے قبضہ میں تھا یہاں روم کا گورنر رہتا تھا اور بصرہ دوسرا شہر ہے جو عراق میں ہے جہاں سے بغداد شریف کو ریل جاتی ہے میں نے بصرہ و بغداد کی زیارات کی ہیں،بعض لوگ اسے بصرہ سمجھتے ہیں یہ غلط ہے۔
۴؎جیسے آج کل سفیر یا وزیر خارجہ کے ذریعہ صدر مملکت سے بات ہوتی ہے ویسے ہی اس زمانہ میں گورنر بصریٰ کے ذریعہ قیصر روم کو پیغام دیئے جاتے تھے اس لیے حضورصلی اللہ علیہ و سلم نے یہ دعوت اسلام گورنر بصریٰ کے ذریعہ بھیجی۔معلوم ہوا کہ ہر ملک کے قوانین پرعمل کرنا درست ہے جب کہ وہ خلاف اسلام نہ ہوں۔
۵؎معلوم ہوا کہ اپنے خط وغیرہ دنیاوی تحریروں کو بھیبسم اﷲسے شروع کرنا سنت ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب ملکہ بلقیس کو خط لکھا تھا تو اسے بھیبسم اﷲسے شروع فرمایا تھا(قرآن کریم)آج کل بعض محتاط لوگ بجائےبسم اﷲکے ۷۸۶ یعنیبسم اﷲکے عدد لکھتے ہیں نیچے ۹۲ محمد کے نام کے عدد کیونکہ آج کل خطوط ڈاک سے جاتے ہیں جس سےبسم اﷲوغیرہ کی بے ادبی ہوتی ہے ۔وہ فرمان عالی ہاتھوں ہاتھ گئے تھے ان کی یہ احتیاط بھی اچھی ہے غرضیکہ ادب اعلیٰ عبادت ہے جتنا ہوسکے اچھا ہے۔
۶؎معلوم ہوا کہ خط میں کاتب اور مکتوب الیہ کا نام شروع میں لکھنا سنت ہے بعد میں مضمون ہو،یہ بھی معلوم ہوا کہ مکتوب الیہ کے کچھ خصوصی القاب لکھنا بھی بہتر ہے خود اپنے خصوصی صفات بیان کرنا بھی اچھا ہے،حضور انور نےعبداﷲ و رسولہمیں اپنے کمال عبودیت اور جمال و رسالت دونوں بیان فرمائے۔ہرقل عیسائی تھا،اس فرمان میں اشارۃً ان کی غلطی کی طرف بھی متوجہ فرمادیا کہ تم نے عیسیٰ علیہ السلام کو بجائے بندے کے خدا مان لیا۔
۷؎معلوم ہوا کہ کفار کو السلام علیکم نہ کہا جائے کفاروبے دینوں کو یہ سلام کرے،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی فرعون سے یہ ہی سلام فرمایا تھا ہدیٰ سے مراد ہدایت اسلام ہے۔
۸؎داعیہمصدر ہے بمعنی دعوت(بلانا)جیسے عافیہ اور عافیت بعض نسخوں میںبدعایۃ الاسلامہے اس کے معنی بھی یہ ہی ہیں جیسے رعایۃ۔
۹؎یعنی اگر تو اسلام لے آیا تو دنیا میں برے عقیدے،برے اعمال اور جزیہ و قتل سے بچے گا اور آخرت میں عذاب الٰہی سے محفوظ رہے گا اور تجھے اور نو مسلموں سے ثواب بھی دگنا ملے گا ایک ثواب عیسائی رہنے کا پھر مسلمان ہوجانے کا کیونکہ اسلام کی برکت سے پچھلے گناہ تو معاف ہوجاتے ہیں پچھلی نیکیاں قبول۔
۱۰؎اریسینجمع ہےاریسیکی بمعنی کاشتکار،ماتحت،رعایا،خدام یعنی اگر تو کافر رہا تو تیری وجہ سے تیری رعایا اور خدام بھی کافر رہیں گے تو ان سب کے کفر کا وبال تجھ پر پڑے گاالناس علی دین ملوکہم،بعض نے فرمایا کہ اریسی عیسائیوں کا نام ہے کیونکہ یہ اریس کے ہیں اس لیے انہیںاردیسیہبھی کہا جاتا ہے اریس کوئی بڑا پادری گزرا ہے۔(مرقات)یعنی تجھ پر تمام عیسائیوں کے عیسائی رہنے کا گناہ ہوگا۔
۱۱؎یہ قرآن کریم کی آیت ہے،اس کی تفسیر ہماری تفسیری نعیمی میں ملاحظہ فرماؤ۔یہاں اتنا سمجھ لو کہکلمۃسے مراد سارے ایمانی اسلامی عقیدے ہیں جن کو حضرات انبیاءکرام بھی جانتے مانتے تھے اور نو مسلم و پرانے مسلم یکساں ہیں اس کی تفسیران لانعبدالخ ہے۔رب بنانے سے مراد یا تو حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا ماننا ہے یا پادریوں جوگیوں کو حرام اور حلال کا مالک جاننا ان سے اپنے گناہ معاف کرانا ہیں جو عیسائیوں کے ہاں ہوتا ہے اسلام میں نہ یہ عقیدے ہیں نہ یہ اعمال ہیں آیت کریمہ بہت جامع ہےیہاں اس کی تفسیر کا موقع نہیں۔
۱۲؎یعنی اگر تم ایمان قبول نہ کرو تو بھی اس خط سے تم کو ہمارا مذہب معلوم ہوگیا کل قیامت میں تم کو ہمارے ایمان کی گواہی بارگاہ الٰہی میں دینا ہوگی۔خیال رہے کہ قیامت کے دن مؤمن کے ایمان کے گواہ کفاربھی ہوں گے اور درخت ذرے وغیرہ بھی جنہوں نے مؤمن کے ایمان کو اس کے اعمال کو دیکھا جہاں تک مؤذن کی آواز اذان پہنچتی ہے وہاں تک کہ ہر چیز اس کے ایمان کی گواہ ہے۔
۱۳؎یریساوردعایۃدونوں لفظوں کی تحقیق ابھی کردی گئی ہے۔اس حدیث سے بہت مسائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ خط کوبسم اﷲسے شرو ع کرنا سنت ہے۔دوسرے یہ کہ کفار کو سلام اس طرح کیا جائے"السَّلٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی"۔ تیسرے یہ کہ جہاد سے پہلے کفار کو دعوت اسلام دینا چاہیے یہ دعوت کبھی واجب ہے کبھی مستحب۔چوتھے یہ کہ ایک شخص کی خبرمعتبر ہے،اکیلے حضرت دحیہ کو خط دے کر بھیجا گیا ان کے ساتھ گواہ نہ گئے۔پانچویں یہ کہ کفار کے ملک میں ایک دو آیتوں والا کاغذ بھیجنا جائز ہے وہاں قرآن لے جانا ممنوع ہے جب کہ اس کی توہین کا اندیشہ ہو،دیکھو حضور نے اس خط شریف میں قرآنی آیت لکھ کر عیسائیوں کے ملک میں بھیجی۔چھٹے یہ کہ ایک دو آیتوں کو بے وضو اور کافر چھو سکتے ہیں۔دیکھو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس فرمان عالی میں آیت قرآنیہ تحریر فرماکر گورنر بصریٰ کی معرفت ہرقل شاہ روم کو روانہ فرمایا حالانکہ عظیم بصری اور ہرقل دونوں عیسائی تھے۔ساتویں یہ کہ خط میں مضمون سے پہلے اپنا اور مکتوب الیہ کا نام لکھے۔آٹھویں یہ کہ پہلے اپنا نام لکھے پھر مکتوب الیہ کا اگر بڑا آدمی فاسق ہو تو اس کی تعریف زیادہ نہ لکھے معمولی القاب لکھے۔دیکھو حضور انور نے شاہ روم کو صرف عظیم الروم لکھا یعنی جسے رومی لوگ بڑا سمجھتے ہیں۔ دسویں یہ کہ تبلیغ میں بے نیازی بھی چاہیے اور نرم کلامی بھی،رب تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا "فَقُوۡلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا"فرعون سے نرم کلام کرنا۔گیارہویں یہ کہ کلام بلیغ اور مختصر بہتر ہوتاہے۔بارھویں یہ کہ کفار کے سرداروں کو عذاب بہت زیادہ ہوگا ان کی وجہ سے ان کے ماتحت لوگ بھی کافر رہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَہُمْ وَاَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِہِمْ"۔تیرھویں یہ کہ اگر اہل کتاب مسلمان ہوجائیں تو انہیں ثواب ڈبل ملتا ہے پہلے عیسائی ہونے کا پھر مسلمان ہوجانے کا۔چودھویں کہ یہ عبدیت رسالت پر مقدم ہے کہ اسی لیےعبدہ و رسولہفرمایا گیا کہ عبدیت کا تعلق صرف رب تعالٰی سے ہے اور رسالت کا تعلق مخلوق سے بھی۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس فرمان عالی کے بھیجتے وقت یہ آیت کریمہ"یٰۤاَھۡلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا"الخ نازل ہی نہیں ہوئی تھی کیونکہ یہ فرمان عالی ۶ھ ∞ میں بھیجا گیا اور آیت کریمہ کا نزول وفد نجران کے موقعہ پر ہوا یعنی ۹ھ ∞ میں یہ حضور عالی کا اپنا فرمان تھا جس کے مطابق تین سال بعد آیت کریمہ ان ہی الفاظ میں نازل ہوئی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3926