Main Icon

باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3932

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ النُّعْمَانِ اِبْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ: شَهِدْتُ الْقِتَالَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ القِتَالَ أَوَّلَ النَّهَارِ انْتُظَرَ حتّٰى تَهُبَّ الأَرْوَاحُ وَتَحْضُرَ الصَّلَاةُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن النعمان ابن مقرن قال: شهدت القتال مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكان إذا لم يقاتل القتال أول النهار انتظر حتى تهب الأرواح وتحضر الصلاة. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نعمان ابن مقرن سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں رسولصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ جہاد میں حاضر ہوا ۲؎جب حضور اول دن میں جنگ نہ کرتے تو انتظار فرماتے حتی کہ ہوائیں چلتیں اور وقت نماز آجاتا۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ نعمان ابن عمرو ابن مقرن مزنی ہیں،سوید ابن مقرن کے بھائی،حضرت سوید فتح کے دن قبیلہ مزنیہ کے علمبردار تھے،آپ نے اپنے ساتھ بھائیوں ا ور چارسو ساتھیوں کے ساتھ ہجرت کی تھی،پھر بصرہ میں قیام پذیر رہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے نہاوند کے گورنر تھے،وہاں ہی اکیس ۲۱ھ؁ ∞ میں فوت ہوئے، رضی اللہ عنہ۔
۲
؎جہاد سے مراد جنس جہاد ہے یعنی بہت سے جہادوں میں شریک ہوا ہوں۔
۳
؎ارواحجمع ہےریحکی چونکہریحاصل میںروحتھا واؤ ی سے بدل گیا تھا اس لیے جمعارواحآئی،اریاحبھی آتی ہے مگر بہت کم۔ریاحاورارواحبہت زیادہ،جمع کی جمعاراویحیااراییحہے۔چونکہ بیچ دوپہری میں کفار سورج کی پوجا کرتے ہیں اس لیے اس وقت نماز نہیں ہے اور حضور اس وقت جہاد بھی نہ کرتے تھے،سورج ڈھلے سورج کی پوجا ختم ہوجاتی ہے،نماز ظہر پڑھنے لگتے ہیں نمازیوں کے لیے دعائیں شروع ہوجاتی ہیں،دوپہری کی شدت جاتی رہتی ہے،قدرے ٹھنڈی ہوا بھی چلنے لگتی ہے اس لیے حضور اس وقت جہاد فرماتے تھے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3932