- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- جہاد کا بیان
- حدیث نمبر 3936
باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3936
جہاد کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِيْ وَائِلٍ قَالَ: كَتَبَ خَالِدُ بْنُ الْوَليدِ إِلٰى أَهْلِ فَارِسَ: بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ، مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَليدِ إِلَى رُسْتَمَ وَمِهْرَانَ فِي مَلِأَ فَارِسَ، سَلَامٌ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى، أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّا نَدْعُوْكُمْ إِلَى الإِسْلَامِ،فَإِنْ أَبَيْتُمْ فَأَعْطُوا الْجزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُوْنَ، فَإِنْ أَبَيْتُمْ فَإِنَّ مَعِيَ قَوْمًا يُحِبُّوْنَ الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ كَمَا يُحِبُّ فَارِسُ الْخَمْرَ، وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى. رَوَاهُ فِيْ "شَرْح السُّنَّة".
عن أبي وائل قال: كتب خالد بن الوليد إلى أهل فارس: بسم الله الرحمن الرحيم، من خالد بن الوليد إلى رستم ومهران في ملأ فارس، سلام على من اتبع الهدى، أما بعد! فإنا ندعوكم إلى الإسلام،فإن أبيتم فأعطوا الجزية عن يد وأنتم صاغرون، فإن أبيتم فإن معي قوما يحبون القتل في سبيل الله كما يحب فارس الخمر، والسلام على من اتبع الهدى. رواه في "شرح السنة".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو وائل سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت خالد ابن ولید نے۲؎فارس والوں کو لکھا۳؎میں شروع کرتا ہوں مہربان رحم والے اللہ کے نام سے یہ خط ہے خالد ابن ولید کی طرف سے رستم اور مہران کی طرف جو فارس کی جماعت میں ہیں۴؎اس پر سلام ہو جو ہدایت کی ابتاع کرے اس کے بعد ہم تم کو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں لیکن اگر تم نہ مانو تو جزیہ اپنے ہاتھ سے دو حالانکہ تم ذلیل ہو ۵؎پھر اگر تم نہ مانو تو میرے ساتھ ایسی قوم ہے جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے کو ایسا پسند کرتے ہیں جیسے فارس کے لوگ شراب پسندکرتے ہیں ۶؎اور سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے ۷؎(شرح سنہ)
شرح حدیث
۱∞؎آپ کا نام شقیق ابن ابی سلمہ ہے،اسدی کوفی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا زمانہ پایا مگر ملاقات نہ کرسکے، حضور کی بعثت کے وقت دس سال کے تھے،جلیل القدر صحابہ سے ملاقات ہے جن میں حضرت عمر اور حضرت ابن مسعود بھی ہیں اور حضرت ابن مسعود کے خاص ساتھیوں سے ہیں،حجاج ابن یوسف کے زمانہ میں وفات پائی،بڑے ثقہ بزرگ ہیں،آپ سے بہت احادیث مروی ہیں۔
۲؎آپ مشہور صحابی ہیں ،قرشی مخزومی ہیں،زمانہ جاہلیت میں قریش کے سردار تھے،آپ کی والدہ لبابہ صغریٰ ہیں، حضرت ام المؤمنین میمونہ کی بہن ۲۱ھ ∞ میں وفات ہوئیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کو سیفﷲکا خطاب دیا،ایک بار زہر ہتھیلی پر رکھ کر کھالیا کوئی اثر نہ ہوا، ایک بار کوئی شخص شراب سے بھری ہوئی مشک لیے جارہا تھا تو فرمایا الٰہی اسے شہد بنادے وہ شہد ہوگئی۔ (مرقات) آپ کا مزار پرانوار دمشق و حلب کے درمیان شہر حمص میں ہے،یہ گنہگار قریب مزار تک پہنچا ہے۔
۳؎غالبًا یہ خط خلافت فاروقی میں روانہ کیا جب کہ ایران پرمسلمانوں کا حملہ ہونے والا تھا۔خیال رہے کہ ملک فارس عہد فاروقی میں فتح ہوا۔
۴؎مَلاجماعت کو بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ جگہ کو بھر دیتی ہے اور سرداروں کو بھی کیونکہ انکی ہیبت سے لوگوں کے دل بھرے ہوتے ہیں۔ملاکے معنی ہیں بھرناخلاءکے مقابل یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں۔جماعت اور سرداران یعنی یہ خط اس جماعت یا ان سرداروں کی طرف ہے جن میں رستم اور مہران شامل ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ دعوت اسلام صرف بادشاہ کو بھی دی جائے،کفار کے سرداروں کو بھی اور عام لوگوں کو بھی کیونکہ رستم اور مہران فارس کے بادشاہ نہ تھے قوم کے سردار تھے۔
۵؎یعنی بہتر تو یہ ہے کہ تم مسلمان ہوکر دونوں جہاں کی عزت و عظمت حاصل کرلو ورنہ تم کو جزیہ دینے کی ذلت اختیار کرنا پڑے گی۔جزیہ دینا خود ایک ذلت ہے یہ عبارت قرآن کریم کی اس آیت سے ماخوذ ہے"حَتّٰى يُعْطُوْا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُوْنَ" اس لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ ذمی کفار خواہ کتنے بڑے امیر ہوں مگر اپنا جزیہ(ٹیکس)حاکم اسلام کے سامنے خود لے کر حاضر ہوں، اپنے نوکر وغیرہ کے ہاتھ نہیں بھیج سکتے کیونکہ آیتِ کریمہ میںعن یدارشاد ہوا ہے۔
۶؎یعنی اگر تم جزیہ بھی قبول نہیں کرتے اور ہماری رعایا بھی نہیں بنتے تو پھر ہماری تمہاری جنگ ہے مگر اس جنگ کا انجام سوچ لو۔تم کو شراب کے عارضی نشہ سے الفت ہے ہمارے مجاہدوں کو عشق الٰہی کے دائمی نشہ سے محبت،تم شراب پی کر لڑتے ہو ہم نشہ عشقِ الٰہی میں مخمور ہوکر صرف رب کے لیے لڑتے ہیں،عارضی چیز اصل کے مقابل نہیں ٹھہر سکتی ہے۔
۷؎اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کسی سے بے خبری میں نہیں لڑتے بلکہ پہلے اسے خبردار کرتے پھر ہتھیار اٹھاتے ہیں۔یہ حکم بے خبر کفار کے لیے ہے جنہیں ابھی دعوت اسلام نہ پہنچی ہو بلکہ باخبر کفار کے ایمان کی اگر امید ہو تو انہیں خبر دے دینا مستحب ہے۔ فارسیوں کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم بھی دعوت اسلام دے چکے تھے اب یہ دعوت دینا مستحب تھا،یہ بھی معلوم ہوا کہ مؤمن کی جنگ ملک گیر یا مال حاصل کرنے کو نہیں ہوتی صرف رضا الٰہی اور تبلیغ اسلام کے لیے ہوتی ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ کفار کو السلام علیکم نہ کہا جائے۔ انہیں وہ سلام کیا جائے جو یہاں مذکور ہے قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3936