Main Icon

باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3928

جہاد کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلٰى كِسْرٰى وَإِلَى قَيْصَرَ وَإِلَى النَّجَاشِيِّ وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ يَدْعُوْهُمْ إِلَى اللّٰهِ، وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أنس: أن النبي صلى الله عليه وسلم كتب إلى كسرى وإلى قيصر وإلى النجاشي وإلى كل جبار يدعوهم إلى الله، وليس بالنجاشي الذي صلى عليه النبي صلى الله عليه وسلم. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسریٰ قیصر اور نجاشی کی طرف اور ہر جابر بادشاہ کی طرف فرامین لکھے ۱؎اور انہیں اکی دعوت دیتے تھے یہ نجاشی وہ نہیں ہے جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز جنازہ پڑھی ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎چنانچہ حضور نے شاہ اسکندریہ مقوقس اور منذرابن سادی اور شاہ عمان اور شاہ یمامہ اور حارث ابن ابی شمر اور شاہ جر بادشاہ اذرج شاہ دج شاہ اکیدر وغیرہم کے نام فرامین لکھے،یہ فرامین ۶ھ؁ ∞ میں لکھے گئے۔(دیکھو اشعۃ اللمعات)
۲
؎جس شاہ حبشہ نجاشی پر حضور انور نے نماز جنازہ پڑھی ہے وہ ہے اصحمہ اور یہ بادشاہ نجاشی دوسرا ہے مؤمن یہ بھی تھا حضور انور نے عمرو ابن امیہ ضمری کے ہاتھ اس کو فرمان عالی لکھا جب اس کے پاس عمرو پہنچے تو وہ تخت سے اترکر دوزانو بیٹھ گیا،خط شریف کو چوما آنکھوں سے لگایا فرمان عالی پڑھ کر فورًا مسلمان ہوگیا اور اپنے بیٹے کو بہت تحفے ہدیئے دے کر حضور کے پاس بھیجا،اس کا وہ لڑکا راستہ میں فوت ہو گیا تب حضور انور نے نجاشی کو دوسرا خط شریف بھیجا،نجاشی کی اولاد میں اب تک یہ دونوں خطوط محفوظ ہیں جنہیں وہ تبرکًا رکھتے ہیں۔ان کی زیارت کرتے ہیں۔(اشعۃ اللمعات)رضی اللہ عنہم اجمعین

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3928