- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- نماز کا بیان
- حدیث نمبر 581
باب :وقتوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 581
نماز کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُوْلِهٖ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ،وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلٰى نِصْفِ اللَّيْلِ الأَوْسَطِ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ". رَوَاهُ مُسلِمٌ.
عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "وقت الظهر إذا زالت الشمس، وكان ظل الرجل كطوله ما لم يحضر العصر، ووقت العصر ما لم تصفر الشمس،ووقت صلاة المغرب ما لم يغب الشفق، ووقت صلاة العشاء إلى نصف الليل الأوسط، ووقت صلاة الصبح من طلوع الفجر ما لم تطلع الشمس، فإذا طلعت الشمس فأمسك عن الصلاة فإنها تطلع بين قرني الشيطان". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہرکا وقت ۱؎جب ہے کہ سورج ڈھل جائے ۲؎اورآدمی کا سایہ اس کے قدکی برابرہو جائے ۳؎جب تک کہ عصرنہ آئے ۴؎اورعصرکاوقت جب تک ہے کہ سورج زرد نہ پڑجائے ۵؎اورنمازمغرب کا وقت جب تک ہے کہ شفق غائب نہ ہوجائے ۶؎اورعشاءکی نماز کا وقت رات کے درمیانی آدھے تک ہے ۷؎اورنمازصبح کا وقت صبح چمکنے سے اس وقت تک ہے کہ سورج نہ چمکے۔جب سورج چمک جائے تو نمازسے بازرہو ۸؎کیونکہ سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ۹؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎ظہر یا ظہورسے بنا یاظہیرہ سے(دوپہری)چونکہ معراج کے بعد اولًا یہی نماز ظاہر ہوئی اور سب سے پہلے یہی پڑھی گئی،نیزیہ دوپہری میں اداکی جاتی ہے لہذا اسے ظہرکہاجاتاہے۔
۲؎آفتاب صبح سے دوپہر تک چڑھتا ہے اور دوپہرسے شام تک پچھم کی طرف اترتا ہے جس حد پرچڑھنا ختم ہوجائے اور اس کے بعد اترنا شروع ہو وہ نصف النہار سے آگے بڑھنے کا نام زوال ہے،یہ زوال ہی وقت ظہر کی ابتداءہے وہی یہاں مراد۔
۳؎زوال کے وقت سایہ برابر ہونا بعض ملکوں اوربعض زمانوں میں ہوگا۔سردی میں چونکہ سورج جنوب کی طرف ہوتا ہواجاتاہے لہذا اس وقت بعض جگہ یہ سایہ چیز کے برابرہوتاہے،لیکن کبھی بعض ملکوں میں اس وقت سایہ بالکل نہیں ہوتا یا ہوتا ہے مگر بہت تھوڑا۔جس زمانہ میں حضور نے یہ فرمایا ہوگا وہ موسم سردی کا ہوگا،لہذا یہ حدیث بالکل ظاہرہے اورآیندہ حدیثوں کے خلاف نہیں جن میں اس سایہ کی مقدار تسمہ کی برابربیان فرمائی گئی کیونکہ وہاں موسم گرمی کا ذکر ہے اوریہاں سردی کا اورہوسکتا ہے کہ اس جملہ میں ظہر کا آخری وقت مرادہواورحدیث کے معنی یہ ہوں کہ آفتاب ڈھلنے سے ظہرشروع ہوتی ہے اور ایک مثل سایہ پر ختم،اس صورت میں یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے کیونکہ ہمارے ہاں دومثل پرظہرکاوقت نکلتاہے ان کے ہاں ایک مثل پر لیکن ان کی یہ دلیل کمزور ہے کیونکہ اس میں اصلی سایہ کاذکرنہیں،امام شافعی کے ہاں اصلی سایہ کے علاوہ ایک مثل سایہ چاہئے۔
۴؎پہلی تفسیر پر یہ جملہ ظہر کے آخروقت کابیان ہے اور دوسری تفسیر پر پہلے جملہ کی تاکید ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ظہروعصرکے درمیان کوئی فاصلہ نہیں یعنی ظہر جاتے ہی عصرآجاتی ہے۔
۵؎یہ عصر کے وقتِ مستحب کا بیان ہے یعنی دھوپ پیلی پڑنے سے پہلے عصر کی نماز پڑھ لینی چاہئے،ورنہ غروب آفتاب تک وقت عصر ہے،جیساکہ مسلم و بخاری کی روایات میں ہے۔خیال رہے کہ آفتاب ڈوبنے سے بیس منٹ قبل پیلا پڑتا ہے۔
۶؎یعنی مغرب کا وقت آفتاب ڈوبنے سے شروع ہوتاہے اورشفق غائب ہونے پرختم۔امام اعظم کے نزدیک شفق اس سفیدی کانام ہے جو آسمان کے مغربی کنارے پرسرخی کے بعدنمودارہوتی ہے۔اور امام شافعی و صاحبین کے نزدیک سرخی کا نام شفق ہے،یعنی سفیدی کا وقت امام صاحب کے نزدیک مغرب ہے،یہی قول سیدناابوہریرہ،امام اوزاعی اورعمرابن عبدالعزیزکاہے۔اور امام شافعی کے نزدیک یہ وقت عشاء ہے،یہی قول سیدناعبداللہ ابن عمر اور ابن عباس کا ہے۔احتیاط یہ ہے کہ سفیدی آنے سے پہلے مغرب پڑھ لے اور سفیدی ڈوبنے کے بعد عشاء پڑھے تاکہ اختلاف سے بچ جائے۔
۷؎یہاں بھی وقتِ مستحب مراد ہے،یعنی مستحب یہ ہے کہ آدھی رات سے پہلے پڑھ لے ورنہ وقت عشاء صبح صادق تک رہتا ہے۔درمیانی سے مرادیادرمیانی رات ہے،یا درمیانی آدھا یعنی راتیں لمبی بھی ہوتی ہیں،چھوٹی بھی اور درمیانی بھی،تم درمیانی رات کے آدھے تک پڑھ لو،یا پورے آدھے تک نماز پڑھ لو،نہ کم نہ زیادہ۔
۸؎یعنی سورج نکلتے وقت کوئی نماز نہ پڑھو،نہ نفل،نہ فرض۔یہاں دو مسئلے سمجھنا چاہیئے:ایک یہ کہ تین وقت مطلقًا نماز ممنوع ہے،سورج نکلتے وقت،بیچ دوپہریعنی نصف النہارپر،سورج ڈوبتے وقت کہ ان اوقات میں فرض و نفل نماز بلکہ سجدہ ہی حرام ہے،البتہ سورج ڈوبتے وقت آج کی عصردرست ہے۔دوسرے یہ کہ جب تک سورج میں تیزی نہ آجائے تب تک طلوع مانا جائے گا یعنی سورج چمکنے سے بیس منٹ تک سجدہ حرام ہے۔
۹؎یعنی ایک شیطان سورج نکلتے وقت سورج کے سامنے اس طرح کھڑا ہوجاتا ہے کہ سورج اس کے دونوں سینگوں کے درمیان معلوم ہو،تاکہ اپنے دوسرے شیاطین کو دکھائے کہ سورج کی پوجاکرنے والے مجھے پوج رہے ہیں،بہت مشرکین اس وقت سورج کو سجدہ کرتے ہیں اس کی طرف پانی پھینک کر اس کی تعظیم کرتے ہیں،مسلمانوں کو اس وقت سجدہ حرام ہے تاکہ مشرکوں سے مشابہت نہ ہو اورشیطان یہ نہ کہہ سکے کہ مسلمان مجھے سجدہ کررہے ہیں۔خیال رہے کہ سورج ہروقت کہیں نہ کہیں طلوع کرتا ہے تو مطلب یہ ہے کہ شیطان سورج کے ساتھ اسی طرح گردش کرتا ہے کہ جہاں سورج طلوع ہورہا ہو وہاں اس وقت وہ نمودار ہوتاہے اس کی بہت تفسیریں ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 581