Main Icon

باب :وقتوں کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 584

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَن ابْنِ شِهَابٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا، فَقَالَ لَهٗ عُرْوَةُ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيْلَ قَدْ نزَلَ فَصَلّٰى أَمَامَ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَقَالَ لَهٗ عُمَرُ: اِعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِيْ مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُولُ: "نَزَلَ جِبْرِيْلُ فَأَمَّنِيْ فَصَلَّيْتُ مَعَهٗ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهٗ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهٗ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهٗ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهٗ"يَحْسُبُ بِأصَابِعِهٖ خَمْسَ صَلَوَاتٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن ابن شهاب: أن عمر بن عبد العزيز أخر العصر شيئا، فقال له عروة: أما إن جبريل قد نزل فصلى أمام رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فقال له عمر: اعلم ما تقول يا عروة، فقال: سمعت بشير بن أبي مسعود يقول: سمعت أبا مسعود يقول: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "نزل جبريل فأمني فصليت معه، ثم صليت معه، ثم صليت معه، ثم صليت معه، ثم صليت معه"يحسب بأصابعه خمس صلوات. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن شہاب سے ۱؎کہ حضرت عمر ابن عبدالعزیزنے عصرکچھ دیرسے پڑھی۲؎توان سے عروہ نے کہا کہ حضرت جبریل اترے انہوں نے حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کے آگے نمازپڑھی۳؎حضرت عمرنے ان سے کہا کہ جوکہتے ہوسمجھ کے کہو اے عروہ ۴؎وہ بولے میں نے بشیر ابن ابی مسعودکو کہتے ہوئے سنا انہوں نے ابی مسعود کو سنا کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے سنا ۵؎کہ اترے حضرت جبریل انہوں نے میری امامت کی میں نے ان کے ساتھ نمازپڑھی پھران کے ساتھ نماز پڑھی پھر ان کے ساتھ نمازپڑھی پھرانکے ساتھ نماز پڑھی پھران کے ساتھ نماز پڑھی اپنی انگلیوں پر پانچ نمازیں گناتے تھے۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ امام زہری کی کنیت ہے،آپ کا نام محمدہے،کنیت ابوبکراورابن شہاب ہے،مشہورتابعی ہیں۔
۲
؎یعنی معمول سے زیادہ دیر سے پڑھی،عمر ابن عبدالعزیز خلفاء میں سے پانچویں خلیفہ برحق ہیں۔(مرقات)پانچواں اس لئے کہا گیا کہ حضرت امام حسن نے خلافت سے دستبرداری کرلی تھی،آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں۔
۳
؎سبحان اللّٰهِ !کیا ادب ہے حضرت عروہ نے یہ نہ کہا کہ حضورکونماز پڑھائی بلکہ یوں کہا کہ آگے کھڑے ہوکرنمازپڑھ کردکھائی،حضرت عروہ عائشہ صدیقہ کے بھانجے اور حضرت اسماء کے فرزند ہیں۔آپ کے باغ کے کنوئیں کا پانی فقیر نے بھی پیا ہے۔
۴
؎یعنی اے عروہ !یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حضرت جبریل حضور سے آگے کھڑے ہوں،رب تو فرماتا ہے:"لَا تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ"تمہاری یہ خبرمجھے قرآن کے خلاف معلوم ہوتی ہے۔
۵
؎خیال رہے کہ حضرت عروہ ابن زبیرخودبھی صحابی ہیں مگرپھربھی اسناد سے حدیث بیان کی۔مقصدیہ ہے کہ میں نے حضور سے خودبھی یہ حدیث سنی ہے،میرے علاوہ اورصحابہ نے بھی سنی اوران سے دوسرے مسلمانوں نے بھی۔غرض کہ بطورگواہی یہ اسنادپیش کی ورنہ جب صحابی خودحضور سے حدیث سن لیں تو انہیں اسنادکی ضرورت نہیں۔
۶
؎حضرت عروہ نے اس جگہ نمازکے اوقات کا ذکر نہ کیا کیونکہ حضرت عمرابن عبدالعزیزکو اس پرتوکوئی شبہ نہ تھا،انہیں شبہ یہ تھا کہ حضرت جبریل حضورحضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کونمازکیونکرپڑھاسکتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم توامام الاولین و الاٰخرینہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کوجاتے ہوئے سارے نبیوں کو نماز پڑھائی،بیت المقدس میں ان مقتدیوں میں حضرت جبریل و میکائل بلکہ سارے براتی فرشتے اس معراج والے دولہا(صلی اللہ علیہ وسلم)کے پیچھے تھے،آج حضرت جبریل امام کیسے ہوگئے اس لئے اسناد سے صرف نماز پڑھانے کا واقعہ عرض کیا۔ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ معراج کی نماز نمازِعشق تھی نہ کہ نماز شرعی ورنہ گزشتہ نبی یہ نماز نہ پڑھتے کہ بعد وفات احکام شرعیہ ختم ہوجاتے ہیں اوریہ نمازتھی اوراحکام شرعیہ لانے والے حضرت جبریل تھے،عشق حضور(صلی اللہ علیہ وسلم)نے حضرت جبریل امین کوسکھایا اورشریعت کے احکام حضرت جبریل علیہ السلام لائے"اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَاَصْحٰبِہٖ وَسَلَّمَ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 584