Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3098

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ: "فَانْظُرْ إِلَيْهَا؛ فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الأَنْصَارِ شَيْئًا رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن أبي هريرة قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إني تزوجت امرأة من الأنصار قال: "فانظر إليها؛ فإن في أعين الأنصار شيئا رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا ۱؎بولا میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح لینا ہے ۲؎فرمایا اسے دیکھ لو ۳؎کیونکہ انصار کی آنکھ میں کچھ ہوتا ہے ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ شخص غیر انصاری تھا جسے انصار کی عورتوں کے متعلق کچھ خبر نہ تھی اگر انصاری ہوتا تو خود ہی تمام چیزوں سے خبردار ہوتا،اسے یہ بتانے کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔
۲
؎یہ ترجمہ ہی مناسب ہے کیونکہ بعد نکاح عور ت دیکھ لی ہی جاتی ہے،نیز پھر دیکھنا بے کار ہے کہ نکاح تو ہو ہی چکا،تزوجسے مرا د ہے ارادۂ نکاح۔
۳
؎دیکھنے سے مراد چہرہ دیکھنا ہے کہ حسن وقبح چہرے ہی میں ہوتا ہے اور اس سے مراد وہ ہی صورت ہے جو ابھی عرض کی گئی یعنی کسی بہانہ سے دیکھ لینا یا کسی معتبر عورت سے دکھوالینا،نہ کہ باقاعدہ عورت کا انٹرویو(Interveiw)کرنا جیسا کہ آجکل کے بے دینوں نے سمجھا۔
۴
؎یا تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے انصار کی عورتوں کو ان کے مَردوں پر قیاس کیا کہ مَردوں کی آنکھیں نیلگوں تھیں تو عورتوں کی بھی ایسی ہی ہوں گی،یا کسی نے حضور سے یہ عرض کیا ہو گا یا اس لیے کہ حضور ہر کھلے چھپے سے خبردار ہیں یا حضور انور سے مسلمان عورتوں کا پردہ نہیں کہ حضور والد ہیں مگر یہ توجیہ کچھ کمزور سی ہے کیونکہ احترام و ادب میں والد ہیں نہ کہ شرعی احکام میں لہذا حضور سے پردہ فرض ہے جو بیبیاں حضورکے سامنے آئی ہیں وہ رضاعی ہمشیرہ وغیرہ تھیں یا کوئی اور طرح محرم۔(اشعہ و مرقات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بعض صورتوں میں غیبت یعنی کسی کی برائی پس پشت بیان کرنا جائز ہے جب کہ کسی فساد کا روکنا منظور ہو،آج محدثین راویان حدیث کے عیوب بیان کرتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3098