Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3104

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظَرِ الْفُجَاءَةِ، فَأَمرنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن جرير بن عبد الله قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نظر الفجاءة، فأمرني أن أصرف بصري. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جریر ابن عبدسے فرماتے ہیں ۱؎کہ میں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم سے اچانک نظر پڑ جانے کے متعلق پوچھا تو حضور نے مجھے نظر پھیرلینے کا حکم دیا ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر اجنبیہ عورت پر بلا قصد نظر پڑ جائے تو اس میں گناہ کیا ہے اور اس کا کفارہ کیا ہے۔
۲
؎یعنی اس اچانک نظر پڑ جانے میں تو گناہ نہیں مگر فورًا نگاہ ہٹا لو اگر دوبارہ دیکھ لیا یا اسے دیکھتے رہے تو گنہگار ہوں گے کہ اس میں گناہ کا ارادہ پالیا گیا۔اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ عورت پر منہ چھپانا واجب نہیں بلکہ مرد پر نگاہ نیچی رکھنا ضروری ہے کیونکہ سرکار نے مرد کو نظر پھیر لینے کا حکم دیا(مرقات)مگر یہ اسدلال ضعیف ہے اگلی حدیث میں آئے گا کہ عورت بھی اجنبی مرد کو نہ دیکھے اگرچہ مرد نا بینا ہو یہاں وہ صورت مراد ہے کہ عورت بے پردہ نہ تھی پھر مرد کی نظر پڑگئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3104