Main Icon

باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3102

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ" فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَرَأَيْتَ الْحَمْوَ؟ قَالَ "الْحَمْوُ الْمَوْتُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إياكم والدخول على النساء" فقال رجل: يا رسول الله أرأيت الحمو؟ قال "الحمو الموت". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ عورتوں کے پاس جانے سے بچو ۱؎کسی نے عرض کیا یارسولدیور کے متعلق فرمایئے فرمایا دیور تو موت ہے۔۲؎(مسلم بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎پچھلی حدیث میں خلوت کا ذکر تھا یہاں بے پردہ آمنے سامنے آنے کا ذکر ہے یعنی غیر محرم عورت کے پاس بے پردہ نہ جاؤ اگر چہ ذی رحم ہی ہو،جیسے چچا زاد، خالہ زاد،پھوپھی زاد بھائی بہن کہ ان سے پردہ چاہیے کہ اگر چہ ذی رحم تو ہیں مگر محرم نہیں ان سے نکاح درست ہے۔
۲
؎یعنی بھاوج کا دیور سے بے پردہ ہونا موت کی طرح باعث ہلاکت ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ حمو سے مراد صرف دیور یعنی خاوند کا بھائی ہی نہیں بلکہ خاوند کے تمام وہ قرابت دار مراد ہیں جن سے نکاح درست ہے جیسے خاوند کا چچا ماموں پھوپھا وغیرہ اسی طرح بیوی کی بہن یعنی سالی اور اس کی بھتیجی بھانجی وغیرہ سب کا یہ ہی حکم ہے۔خیال رہے کہ دیور کو موت اس لیے فرمایا کہ عادتًا بھاوج دیور سے پردہ نہیں کرتیں بلکہ اس سے دل لگی،مذاق بھی کرتی ہیں اور ظاہر ہے کہ اجنبیہ غیر محرم سے مذاق دل لگی کسی قدر فتنہ کا باعث ہے اب بھی زیادہ فتنہ دیور بھاوج اور سالی بہنوئی میں دیکھے جاتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3102